30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ربّ تعالٰی کی شانِ رزّاقی:
حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم بن ادھم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْاَکْرَم کی توبہ کاایک سبب یہ واقعہ بنا کہ ایک دن آپ شکار کے لیے گئے ۔پھر جب کھانا کھانے لگے تو ایک کوّا آیا اورروٹی کا ایک ٹکڑا اٹھا کر تیزی سے ایک جانب اڑگیا۔ آپ کوبہت تعجب ہوا۔چنانچہ گھوڑے پر سوار ہو کر اس کا تعاقب کرنے لگے۔کَوّا کچھ دور ایک پہاڑ پر جاکر نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔آپ بھی پہاڑ پر چڑھے تو کوا وہاں موجود تھا اور قریب ہی ایک شخص پڑا تھا جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔آپ نے جلدی سے اسے کھول دیا اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے بتا یا کہ میں ایک تاجر ہوں ، ڈاکوؤں نے میرا سارا مال چھین لیا اور میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر یہاں ڈال دیا میں اسی حالت میں سات دن سے یہاں موجود ہوں ۔ یہ کَوَّا روزانہ میرے پاس روٹی لے کر آتا ہے پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے میرے منہ میں ڈال دیتا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے رزق کا ایسا انتظام فرمایاہے کہ میں ایک دن بھی بھوکا نہیں رہا۔ ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یہ شان رزّاقی دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے صِدْقِ دل سے توبہ کی، غلاموں کو آزاد کردیا، اپنی تمام دولت وجائیدادوقف کردی اور شا ہانہ لباس اتار کر اُونی کپڑے پہن لیے۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کر کے بِلا زَادِ راہ پیدل ہی حج کے لیے چل دئیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کی بدولت دوران سفر آپ کوبھوک و پیاس کا بالکل بھی احساس نہ ہوا یہاں تک کہ آپ بیت اللہ شریف پہنچ گئے۔ آپ نے اس کرم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بہت شکر ادا کیا۔ ([1]) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمین
حضرت سَیِّدُنَاحَاتِم اَصَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے فرمایا : ’’ توکل چار طرح کا ہوتا ہے: (۱) مخلوق پر توکل (۲) مال پر توکل (۳) نفس پر توکل (۴) اپنے ربّ پرتوکل۔مخلوق پرتوکل کرنے والا کہتا ہے :فلاں کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی غم نہیں پہنچ سکتا ۔اورمال پر توکل کرنے والا کہتا ہے:جب تک میرے پاس کثیر مال ہے مجھے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔اور نفس پر توکل کرنے والا کہتا ہے:جب تک میرا جسم سلامت ہے مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہو سکتی۔ یہ تینوں اقسام جاہلوں کا توکل ہے۔ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرنے والا کہتا ہے کہ :میں مالدار ہوں یا فقیر ، مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میرا ربّ میرے ساتھ ہے، وہ جیسے چاہے گا مجھے سنبھالے گا ۔ ([2]) (یہ حقیقی توکل ہے۔)
مدنی گلدستہ
’’ تَوَکُّل ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو رزق مُقَدَّر میں ہے وہ ضرور ملتا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ جیسے چاہتا ہے اپنی مخلوق تک رزق پہنچاتا ہے۔
(2) رزق کے لیے تگ و دو ضرور کرنی چاہیے، حصولِ رزق کی کوشش ہرگز توکل کے خلاف نہیں ۔
(3) بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو عبرت آموز معاملات سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی طرف گامزن ہوجاتے ہیں ۔
(4) مال ودولت اورطاقت وقوت پر بھروسہ کرنا جاہلوں کا طریقہ ہے ۔ تو کل کا حق یہ ہے کہ صرف خدائے بزرگ وبرتر کی ذات پر بھروسہ کیا جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع