30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قیامت کے دن انبیائے کرام کے اٹھنے کی حالت:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ (اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں تم ننگے پاؤں ، بے لباس اوربےختنہ اٹھائے جاؤگے۔) اِس فرمانِ عالی میں : ’’ اِنَّکُمْ ‘‘ فرماکر بتایا گیا کہ تم عوام لوگ اس حالت میں اٹھو گے ، ننگے بدن ، ننگے پاؤں ، بے ختنہ۔ مگرتمام انبیاءِ کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام) اپنے کفنوں میں اٹھیں گے حتی کہ بعض اولیاء اللہ بھی کفن پہنے اٹھیں گے تاکہ اُن کا ستر کسی اور پر ظاہر نہ ہو۔ جامعِ صغیر کی روایت میں ہے کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے فرمایا کہ میں قبر ِانور سے اُٹھوں گا اور فوراً مجھےجنتی جوڑا پہنادیا جاوے گا۔ لہٰذا یہاں اس فرمانِ عالی سے حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمبلکہ تمام انبیاء، بعض اولیاء مستثنیٰ ہیں ۔اس لیے یہاں اَنْتُمْفرمایا نَحْنُنہیں فرمایا ۔یہ خوب خیال رہے۔ (جیسےپہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے۔) یعنی جیسے تم اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے ایسے ہی اپنی قبروں کے پیٹ سے اٹھو گے۔ خیال رہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ننگے نہیں پیدا ہوئے تھے حریر میں لپٹے ہوئے پیدا ہوئے۔
آنکھوں میں سرمہ بالوں میں شانہ دیا ہوا
لپٹے ہوئے حریر میں ختنہ کیا ہوا
حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے ہیں کہ ’’ ہم حضرت ابوبکرو عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کے ساتھ اپنی اپنی قبروں سے اُٹھیں گے، پھر جنت البقیع والوں کا انتظار فرمائیں گے، پھر مکہ معظمہ والے جنت معلی کے مُردوں کا۔ پھر محشر کی طرف اس براءت کے ساتھ جائیں گے۔ ‘‘ ایسی حالت میں حضور بغیر لباس کیسے ہوسکتےہیں ؟ (قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا) یعنی کفن اُتار کر جنتی جوڑا پہلے حضرت خلیلُ اللہ کو پہنایا جاوے۔ یا تو اس حکم سے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) علیحدہ ہیں ، متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے یا یہ بدلہ ہے اس کا کہ نمرودی آگ میں جاتے وقت آپ کے کپڑے اتار لیے گئے تھے یہ خصوصی فضیلت ہے، نیز آپ ننگوں کو کپڑے پہناتے تھے۔ نیز آپ حضور انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے جَدِّ اَمْجَد ہیں اِن وجوہ سے آپ کا یہ اکرام فرمایا گیا۔ ‘‘ ([1])
رسول اللہ سب کچھ جانتے ہیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے سب کچھ جانتے ہیں ، اپنی اُمَّت کے تمام اَفراد اور اُن کے تمام احوال سے بھی واقف ہیں ، آپ پر اُمَّت کے تمام اَعمال پیش کیے جاتے ہیں ، بلکہ سابقہ اُمَّتوں کے اَحوال سے بھی باخبر ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کل بروزِ قیامت دیگر اُمَّتوں کے انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائے جائیں گے۔ لیکن مذکورہ حدیث میں بیان ہوا کہ جب کل قیامت میں اُمَّت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں بائیں طرف والوں میں کھڑا کر دیا جائے گا، حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارگاہ رَبُّ الْعِزَّت میں عرض کریں گے: ’’ یارب! یہ میرے اُمَّتی ہیں ۔ ‘‘ تو کہا جائے گا کہ ’’ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ۔ ‘‘ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب جانتے ہیں تو یہ کیوں کہا جائے گا کہ ’’ آپ نہیں جانتے۔ ‘‘ شارحینِ کِرام نے اس کی بہت سی وجوہات بیان کی ہیں اور کثیر جوابات دیے ہیں ، چند جوابات یہ ہیں :
(1) یہ استفہام انکاری کے طور پر فرمایا جائے گا جس سے نفی لازم نہیں آتی۔بلکہ استفہام انکاری میں علم کا اثبات ہوتاہے، مثلاً کسی کو کہا جائے کہ ’’ کیا آپ ان کو نہیں جانتے۔ ‘‘ تو مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ انہیں جانتے ہیں ۔ بعض روایات میں تو ہمزہ استفہام بھی مذکور ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی ایک روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں : ’’ فَيُقَالُ اَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَیعنی پس کہاجائے گا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ ‘‘ ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع