30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روزِقیامت سب سے پہلے لباس پہننے والے:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو سب سے پہلے لباس پہنائے جانے کی حکمت یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو بِنا کپڑوں کے آگ میں ڈالا گیا تھا اس لیے سب سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو لباس پہنایا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے سب سے پہلے شلوار کے ذریعے سترپوشی کی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ زمین پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا کوئی نہ تھاتو قیامت کے دن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو لباس پہنانے میں جلدی اس لیے کی جائے گی تاکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامخوف سے امن میں آجائیں اور آپ کا دل مطمئن ہوجائے۔ حضرت سَیِّدُنَاابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو سب سے پہلے لباس پہنانے کی تخصیص کرنے سےیہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامہمارے نبی، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مطلقاً افضل ہیں ۔مجھ پر ابھی یہ بات ظاہر ہوئی کہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی قبر انور سے اُسی لباس میں تشریف لائیں گے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وصال فرمایا تھا اور جو حُّلہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زیب تن فرمایا ہوا ہوگاوہ جنتی حُلَّہ ہوگااور وہ تعظیم و تکریم والی پوشاک ہوگی۔ پس حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو پہلے لباس پہنانا یہ بقیہ مخلوق کے لحاظ سے ہے۔ ‘‘ ([1])
نزہۃ القاری میں اس حدیث پاک کے تحت ایک اِشکال اور اُس کاجواب تحریرکیاگیاہے، چنانچہ مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ امام ابوداؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنَا ابوسعید خُدْرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگائےاور انہیں پہنا، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سناہے، (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے تھے: ’’ میت اپنے اُنہیں کپڑوں میں اٹھائی جائےگی جن میں وہ مرے گی۔ ‘‘ نیز ترمذی میں حضرت سَیِّدُنَابَہْزبن حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ مروی ہے ، انہوں نے کہا: ’’ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سنا، فرماتے تھے: ’’ تم لوگ پیدل اورسوارقیامت کے دن جمع کیے جاؤگے۔ ‘‘ یہ دونوں حدیثیں اس (حدیث مذکور ) کے معارض ہیں ۔ علمانے اس کے دوجواب دیے ہیں :
(1) ایک یہ کہ جب قبروں سے اٹھیں گےتو ان کے جسموں پر لباس ہوں گے، پھر وہ منتشر ہوجائیں گے۔اب زیر بحث حدیث کا مطلب یہ ہوا: موقف حشر میں لوگ ابتداءًننگے حاضر ہوں گے، پھر ان کو لباس پہنایا جائے گا۔
(2) دوسراجواب یہ دیاہے کہ یہ شہدائے بدر کے بارے میں ہےکہ وہ اسی لباس میں اٹھائے جائیں گےجس لباس میں شہیدہوئے ہیں ۔ ‘‘ ([2])
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:میں اس طرح کہوں گا جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے حضرت سَیِّدُنَا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا تھا۔یعنی حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم سے چھٹکارے کے لیےبطورِعذر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں جو عرض کریں گے، میں بھی وہی عر ض کروں گا۔ حضرت عیسی عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ خداوندی میں عرض کریں گے:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!جب تک میں ان میں رہا، ان کے حال سے واقف رہا، میں نے انہیں کفر پر نہیں چھوڑا، اس وقت یہ حق پر تھےجب تو نے ان سے مجھے اٹھالیا ، تو اب ان کے حال سے توہی واقف ہےاور تو ہر غائب وحاضر کو جاننے والاہے، اب اگر تو ان پر عذاب وگرفت فرمانا چاہتاہے تو یہ تیرے بندے ہیں توجو چاہے ان کے ساتھ معاملہ فرما، کوئی تیرے سامنے دَم نہیں مارسکتااور اگر تو انھیں معاف فرمادے تو، تو علیم وحکیم ہے جو چاہتاہے کرسکتاہے۔ ‘‘ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع