30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:165
قیامت کے دِن اُٹھائے جانے کا حال
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: قَامَ فِيْنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّكُمْ مَحْشُوْرُوْنَ اِلَى اللَّهِ تَعَالٰی حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا: ( كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ (۱۰۴) ) (پ۱۷، الانبیاء:۱۰۴) اَلَا وَاِنَّ اَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَىٰ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِبْرَاهِيْمُ اَلَا واِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ اُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَاَقُوْلُ: يَا رَبِّ اَصْحَابِي فَيُقَالُ:اِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا اَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَاَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ (وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-) اِلٰی قَوْلِہِ: (الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (۱۱۸) ) (پ۷، المائدۃ: ۱۱۷، ۱۱۸) فَيُقَالُ لِي: اِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّيْنَ عَلَى اَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئےاورارشادفرمایا: ’’ اے لوگو!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں تم اس حال میں اُٹھائے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں ، بے لباس اوربےختنہ ہوگے: (چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)
كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ (۱۰۴) (پ۱۷، الانبیاء: ۱۰۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:ہم نے جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم کو اس کا ضرور کرنا۔
سنو! قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا۔ سنو!بے شک میری اُمَّت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں بائیں طرف والوں میں کھڑا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: یارب! یہ میرے اُمَّتی ہیں ۔ تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ۔ پس میں اس طرح کہوں گا جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے (حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام) نے کہا تھا: (چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)
وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْؕ-وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ (۱۱۷) اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (۱۱۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اورمیں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہاپھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھااور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
پھرمجھ سے کہا جائے گاجب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہیں تب سے یہ لوگ دین سے پھر گئےہیں ۔ ‘‘
عمدۃ القاری میں ہے: ’’ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اُمَّت کے اَعمال پیش کیے جاتے تھے تو پھر اُن لوگوں کے اَعمال پوشیدہ کیسے رہیں گے؟ ‘‘
جواب: ’’ وہ لوگ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُمَّتی نہیں ہوں گےاور آپ پر صرف آپ کی اُمَّت کے اَعمال پیش ہوتے ہیں نہ کہ مُرْتَدِّین و منافقین کے۔ ابن تین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنفرماتے ہیں :ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ منافقین اور کبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کرنے والے ہوں گے ۔ خیال رہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَصحاب میں سے کوئی بھی مُرْتَد نہ تھا ۔ابو عمر نے کہا:ہر اس شخص کو حوض ِ کوثر سے واپس کر دیا جائے گاجس نے دین میں کوئی نئی (خلاف ِشرع) باتایجاد کی ہوگی، جیسا کہ خوارج و روافض اور خواہشات کی پیروی کرنے والے۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع