30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شکار نظر آتے ہیں ، شادی میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کاشوربا، چاول اوران کے اَجْزاء بہاکرمَعَاذ اللہ نالی کی نذر کردیے جاتے ہیں ، ان سے ہم سب واقف ہیں ، کاش رِزْق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظرہوتی۔اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں ، تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے مکانِ عالیشان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، اس کولے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا: ’’ عائشہ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا) اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے، لوٹ کر نہیں آئی۔ ‘‘ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دین اسلام ایک ایسا مذہب مُہَذَّب ہے جو ہمیں بڑے بڑے اہم کاموں سے لے کرچھوٹے چھوٹے معمولی کاموں حتی کہ کھانا کھانے کے بھی آداب سکھاتا ہے، یقیناًبہت خوش نصیب ہے وہ مسلمان جو اپنے ہر کام کو سنت کے مطابق سرانجام دینے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، کھانا کھاتے ہوئے کھانے کی سنتوں اور آداب کا لحاظ رکھتا ہے۔کھانا کھانے کی سنتیں اور آداب جاننے کے لیے کم وبیش 466صفحات پر مشتمل، شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف ’’ آدابِ طعام ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
مدنی گلدستہ
’’ آداب طعام ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) دینِ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی فرماتا ہےحتی کہ کھانا کھانے کے متعلق بھی ہمیں ایسا پاکیزہ طریقہ بتاتا ہے جو روحانی و جسمانی طور پر بے حد فائدہ مند ہے ۔
(2) کسی بھی مسلمان کی یہ بہت بڑی خوش نصیبی ہے کہ وہ اپنے تمام کام سنت کے مطابق حتی کہ کھانا بھی سنت کے مطابق کھانے کی کوشش کرتا ہے۔
(3) رزق کی قدر کرنی چاہیے کہ یہ بابرکت ہے ، اس کی ناقدری کی وجہ سے بے برکتی و تنگدستی آ تی ہے ۔
(4) جس برتن میں کھاناکھائیں اسے اچھی طرح صاف کرلیں نیزچاول اورروٹی کےجو ذرات دستر خوان پر گر جائیں اُنہیں اُٹھاکر کھا لیں ہو سکتا ہے اُنہیں میں برکت ہو ۔
(5) کھانے کے جو ذرات نیچے گرجائیں اگر اس پر کوئی پاک چیز جیسے مٹی وغیرہ لگ جائے تو صاف کرکے کھالیں ، اگر ناپاک چیز لگ جائے تو اسے اچھی طرح دھو کر پاک کرکے کھالیں ، اگر نہ کھانا چاہیں تو کسی جانور وغیرہ کو کھلادیں ، شیطان کے لیے ہرگز نہ چھوڑیں ۔
(6) کھاتے پیتے وقت، سوتے وقت، دعا نماز وغیرہ ہمارے تمام کاموں میں شیطان شریک ہوتا ہےجس سے کھانے میں بہت بے برکتی ہوتی ہے، اولاد بے ادب وسرکش ہوتی ہے۔ اگر ان اوقات میں بِسْمِ اللہ پڑھ لی جائے تو کھانوں میں برکت ہوتی ہے، اولاد نیک و صالح اور باادب پیدا ہوتی ہے۔
(7) دستر خوان سے ٹکڑے اُٹھا کر کھالینا عاجزی وانکساری کی علامت ہے ۔
(8) کھانے میں برکت ہونے کا ایک معنی یہ ہے کہ کم کھانا زیادہ لوگوں کو پورا ہو جاتا ہےاورایک معنی یہ ہے کہ اس سے تقویٰ وپرہیز گاری نصیب ہوتی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق زندگی گزارنےکی توفیق عطا فرمائے ۔
یا خدا ہے التجاء عطار کی
سنتیں اپنائیں سب سرکار کی
[1] ابن ماجۃ، کتاب الاطعمۃ،باب النھی عن القاء الطعام،۴ / ۴۹،حدیث: ۳۳۵۳، تنگ دستی کے اسباب اور اس کا حل، ص۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع