30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ کعبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتا ہے اوراَحکامِ خداوندی کی پرواہ نہیں کرتا وہ اپنے آپ کو جہنم میں گراتا ہے۔
(2) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کواپنی اُمَّت سے بے پناہ محبت ہے جبھی تو انہیں دینی و دُنیوی نقصانات سے بچاتے ہیں ۔
(3) ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ممنوعہ اشیاءاور ان سے بچنے کے طریقے تفصیلاً بیان کر دیے ہیں ، اب بھی جو ان حدود کی پاسداری نہ کرے وہ محروم ہے ۔
(4) کسی کو کوئی اہم بات سمجھانی ہو تو انداز بالکل عام فہم اور سہل رکھنا چاہیے بلکہ ضرورتا ً مثا ل بھی دینی چاہیے تاکہ آسانی سے سمجھ آجائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہے کہ وہ ہمیں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مطیع اپنا مجھ کو بنا یاالٰہی
سدا سنتوں پر چلا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:164
عَنْہُ اَنَّ رَسُوْ لَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِلَعْقِ الْاَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ: اِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِي اَيِّهَا الْبَرَكَةُ. وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ فَلْيَاْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى، وَلْيَاْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ اَصَابِعَهُ. فَاِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي اَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ.
وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ اَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَاْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَاِذَا سَقَطَتْ مِنْ اَحَدِكُمْ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى فَلْيَاْ كُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انگلیاں اورتھال چاٹنے کا حکم ارشاد فرمایااور فرمایا کہ ’’ تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے توچاہیے کہ اسے اٹھالے، اس پر جو مٹی وغیرہ لگ جائے، اسےصاف کرکے کھالےاور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑےاور اپنے ہاتھ تولیے یا رومال سے اس وقت تک نہ پونچھے جب تک کہ انگلیوں کو چاٹ نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ‘‘ ایک اور روایت میں ہے: ’’ بے شک شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اُس کے ہر معاملے میں آتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی آتا ہے، پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو چاہیے کہ اسے صاف کرکے کھالےاورشیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اُن احادیث میں کھانے کی سنتوں میں سے چند کا ذکر ہے: (1) انگلیاں چاٹنا تاکہ کھانے کی برکت کی حفاظت رہے اور ہاتھ بھی صاف ہوں ۔ (2) تین انگلیوں سے کھانا، ان کے ساتھ چوتھی اور پانچویں انگلی نہ ملائی جائے ہاں اگر کوئی عذر ہے مثلاً شوربا یا ایسا سالن ہے جسے تین انگلیوں سے کھانا ممکن نہیں (تو تین سے زیادہ انگلیوں سےبھی کھا سکتے ہیں ) ۔ (3) کھانے کے برتن کو (انگلی سے) چاٹ (کر صاف کر) لینا۔ (4) لقمہ گر جائے تو اسے صاف کر کے کھا لینا، یہ اس وقت ہے جب لقمہ ناپاک جگہ پر نہ گرا ہو، اگر ناپاک جگہ پر گر جائے تو وہ ناپاک ہوجائے گااور اس کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع