30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی اپنی اُمَّت پرشفقت
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘
انسانوں اورپروانوں کے درمیان وجہ تشبیہ:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جاہلین ومخالفین جو گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم میں گرتےہیں ، انہیں پروانوں سے تشبیہ دی جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں حالانکہ اُن جاہلوں کو اُس میں گرنے سے منع کیا گیا ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے ساتھ اِس وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ ‘‘ ([2])
گرتے ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ:
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص کسی کے گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی ) جگہ سے پکڑتا ہے۔ ‘‘ ([3]) (کیونکہ یہاں گرفت مضبوط ہوتی ہے۔)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ یعنی یہ مذکورہ حال میرا اور تمہارا ہے کہ حدودِ الٰہی جو حرام اور ممنوع اُمور پرمشتمل ہیں اُن سے اِجتناب اور دُوری ضروری ہے ۔میں پوری وضاحت سے اُنہیں بیان کر چکا ہو ں ۔جیسے کوئی شخص آگ جلائے اور تم اُس میں گرنا شروع کردو تو میں تمہیں اُس میں گرنے سے روکتا ہوں ۔ ‘‘ ([4])
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ یہ بھی تشبیہ مرکب ہے کہ ایک پورے واقعہ کو پورے واقعہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ﷲتعالٰی نے دنیا اور یہاں کی اُلجھنوں کو دین کا ذریعہ بنانے کے لیے پیدا فرمایا مگر لوگوں نے انہیں غلط استعمال کرکے ہلاکت کا ذریعہ بنالیا جیسے کوئی جنگل میں مسافروں کی ہدایت اور روشنی کے لیے آگ جلائے مگر پتنگےاسی آگ کو اپنی ہلاکت کا سامان بنالیں ا ور ہلاکت کو اپنی نجات سمجھیں ۔چنانچہ دنیا کی لذتیں آگ ہیں اور ہم نا سمجھ بندے پتنگے کہ اس کو غلط استعمال کرکے اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ۔دنیا بنانے والا ربّ ہے اور اس کے غلط استعمال سے بچانے والے حضورہیں ۔حضور کا اپنی اُمَّت کو نرمی گرمی سے سمجھانا بجھانا گویا ان کی کمر پکڑ کر آگ سے روکنا ہے، یہ روکنا تاقیامت رہے گا۔علماءومشائخ کی تبلیغیں ، غازیوں کے جہاد حضور ہی کی تبلیغ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اپنی دانائی یا اپنی تجویز کردہ عقلی عبادتوں کے ذریعہ دوزخ سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ حضور کی ہدایت کو قبول نہ کرے ورنہ ہندوسادھو اور عیسائی راہب ترک دنیا کرکے عمر بھر عبادتیں کرتے ہیں مگر دوزخی ہیں ۔ ‘‘ ([5])
مدنی گلدستہ
[1] مسلم، کتاب الفضائل، باب الشفقۃ علی امتہ ۔۔۔الخ، ص۱۲۵۴، حدیث ۲۲۸۵۔
[2] شرح مسلم للنووی، کتاب الفضائل، باب الشفقۃ علی امتہ ۔۔۔الخ، ۸ / ۵۰، الجزء الخامس عشر، ملخصاً ۔
[3] اکمال المعلم،کتاب الفضائل،باب الشفقۃ علی امتہ ۔۔۔الخ،۷ / ۲۵۳،تحت الحدیث: ۲۲۸۴۔
[4] اشعۃ المعات،کتاب الایمان ،باب الاعتصام بالكتاب والسنۃ ،۱ / ۱۴۰ ملخصا۔
[5] مرآۃ المناجیح،۱ / ۱۵۴ ملتقطا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع