30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث کا مفہوم یوں بیان کرنابھی ممکن ہے کہ قسم اول سے وہ شخص مرادہے جس نے علم دین سیکھا، درجۂ اجتہاد پر فائز ہوا اور اس قوت اجتہاد کی بدولت دین کے باریک معانی ، اسراراور اس کی شرح کی جیسے فقہائے مجتہدین اور علمائے کاملین ومحققین کاحال تھاجس طرح وہ گھاس جو زمین سے اُگتی ہے اور لوگ اس کے ثمرات ونتائج سے بہرہ ورہوتے ہیں ۔دوسری قسم سے وہ شخص مراد ہے جس نے علم حاصل کیا، اسے اپنے سینے میں جمع کیاپھر اس کی حفاظت کی اور اس امانت کو پورے اہتمام کے ساتھ آگے پہنچایااور اس کے اہل کے حوالے کردیا۔جس طرح محدثین ، حفاظِ احادیث اور اس علم کی طرف دعوت دینے والے حضرات ہیں ۔ ‘‘ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اس تشبیہ کاخلاصہ یہ ہے کہ حضورگویا رحمت کابادل ہیں ، حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش، انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین، چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے جہاں عمل اور تقویٰ کے پودے اُگتے ہیں ، علماءاور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں ۔
خیال رہے کہمُشَبَّہْ بِہٖ میں زمین کے تین حصے بیان فرمائے گئے مگرمُشَبَّہمیں انسان کی صرف دو جماعتوں کا ذکر ہوا کیونکہ علماء ہدایت میں عالی ہیں اور کفار گمراہی میں عالی ، درمیانی لوگ یعنی صالح مؤمن خود سمجھ میں آجاتے ہیں ، اس لیے ان کا ذکر نہ ہوا۔ خیال رہے کہ تالاب بہت سی قسم کے ہیں : بڑے، چھوٹے، بہت نافع، کم نافع، بعض تالابوں سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں جیسے بھوپال کا تالاب، ایسے ہی علماء کے مختلف مراتب ہیں : بعض مجتہدین ہیں جیسے چاروں امام، بعض کاملین ہیں ، بعض راسخین ہیں ، پھر ان میں بعض محدثین ہیں اور بعض مفسرین ، یہ تشبیہ ان سب کو شامل ہے۔ ‘‘ ([2])
مدنی گلدستہ
’’ صِدِّیْق ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بہترین انسان وہ ہے جس کے پاس ہدایت اورعلم پہنچا اس نے اسےیادکیا، اس کے ذریعے اپنے دل کو زندہ کیا، اس پر عمل کیااور دوسروں کوسکھایا۔
(2) علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سراب ہوتی رہیں گی۔مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین کی طرح ہےجہاں عمل اور تقویٰ کے پودے اُگتے ہیں ۔
(3) کوئی شخص کسی بھی درجے پر پہنچ کر شہنشاہِ مدینہ قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ زمین کیسی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو اور کتنا ہی اچھا تخم بویا جائے مگربارش کی محتاج ہے، دین و دنیا کی ساری بہاریں حضور کے دم سے ہیں ۔حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کے رشتے کو مضبوطی سے تھامے رکھنے میں ہی دارین کی بھلائی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں باعمل عالمِ دین بنائے، تقویٰ وپرہیزگاری نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:163
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع