30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : (حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) آپ انصاری ہیں اور نو عمر صحابی کہ حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی ہجرت کے چودہ مہینے بعد پیدا ہوئے، بعد ہجرت انصار میں سب سے پہلے آپ پیدا ہوئے اور مہاجرین میں عبدﷲ ابن زبیر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) ، حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی وفات کے وقت ان کی عمر آٹھ سال سات مہینے تھی (حدیث پاک میں ہے:رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم ہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرماتے گویا ان سے تیر سیدھے کر رہے ہوں ۔) یعنی نمازیوں کے کندھے پکڑ پکڑ کر آگے پیچھے کرتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجائے ۔ خیال رہے کہ تیر کی لکڑی کو پَر اور پیکان لگنے سے پہلے قدح کہتے ہیں اور اس کے لگنے کے بعد سَہم ۔ قدح نہایت سیدھی کی جاتی ہے اسے سیدھا کرنے کے لیے نہایت سیدھی لکڑی لیتے ہیں جس کے برابر قدح کو لیتے ہیں یعنی حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم صفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے جیسے قدح سیدھی کرنے والی لکڑی۔ (یہاں تک کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے دیکھا کہ ہم آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی بات سمجھ چکے ہیں ۔ ) تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے کندھے پکڑ کر سیدھا کرنا چھوڑ دیا صرف زبان شریف سے سیدھا کرنے کی ہدایت فرمادیتے۔ (اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں !تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو، ورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دےگا۔) یعنی اگر تمہاری نماز کی صفیں ٹیڑھی رہیں تو تم میں آپس میں اختلاف اور جھگڑے پیدا ہوجائیں گے، شیرازہ بکھرجائے گا یا تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے کہ اُن میں سوز و گداز، درد، خشوع خضوع نہ رہے گا یااندیشہ ہے کہ تمہاری صورتیں مسخ ہوجائیں جیسے گزشتہ قوموں پر عذاب آئے تھے، یہاں وَجْہٌبمعنی ذات ہے یا بمعنی چہرہ، خیال رہے کہ عام مسخ وغیرہ ظاہری عذاب حضور مصطفٰے صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی تشریف آوری سے بند ہوگئے لیکن خاص مسخ وغیرہ اب بھی ہوسکتے ہیں ۔ ‘‘ ([1])
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ صفوں کی درستگی سےمراد یہ ہے کہ نماز میں مل کر کھڑے ہوں ، دوشخصوں کے درمیان خالی جگہ نہ ہو، صفیں بالکل سیدھی ہوں ، کوئی بھی صف سے آگے پیچھے نہ ہو بلکہ سب برابر اور سیدھے کھڑے ہوں ، اگر صفیں زیادہ ہوں تو سب ایک ہی رخ کھڑے ہوں ، اگلی صفیں مکمل ہونے کے بعد ہی پچھلی صفیں بنائیں ، ایک دوسرے کے پیچھے ایک ہی سمت میں کھڑے ہوں ، صفوں کا درمیانی فاصلہ برابر ہو، آگے پیچھے نہ ہوں ، پھر ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے ، یہ صف کے ظاہری آداب ہیں ۔ ‘‘ ([2])
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! نماز شروع کرنے سے پہلے صفوں کی درستی کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ صفوں کی بے ترتیبی اور ٹیڑھا پن حضو نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سخت ناپسند تھا جیساکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ صَفوں کو برابر کرو ، کندھے سے کندھا ملا لو ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور کُشاد گیوں کو بند کردو کہ شیطان بھیڑکے بچے کی طرح تمہارے درمیان داخل ہوجاتا ہے۔ ‘‘ ([3]) اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع