30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سَیِّدُنَا ’’ امام حسن ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا سنت مبارکہ ہے۔
(2) اگر کوئی عذر نہ ہو تو بزرگانِ دین کا حکم ماننے ہی میں عافیت اور دین ودنیا کی بھلائی ہے۔
(3) جھوٹے حیلے بہانوں کی وجہ سے انسان خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
(4) لوگوں کی عبرت کے لیے عبرتناک واقعات بیان کرناجائز ہے لیکن بِلا وجہ شرعی کسی مسلمان کی تعیین نہ کی جائےبلکہ یوں کہا جائے کہ”ایک شخص نے یہ برائی کی تو اس کا یہ انجام ہو ا۔“ یا کوئی اور مناسب حکمت بھرا انداز اختیار کیا جائے ۔
(5) تکبر ایسی بُری خصلت ہے جو کئی گناہوں کی جامع اور کتنی ہی نیکیوں سے مانع ہے لہٰذا اس سے کوسوں دور بھاگنا چاہیےاور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔جہاں جہاں موقع ملے حکمت عملی کے ساتھ اچھے انداز میں لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
(6) بزرگوں کی بے ادبی اور ان کی بد دعا سے بچنا چاہیے کہ اس میں خسارہ ہی خسارہ ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب، حبیب لبیب، ہم گناہگاروں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت و فرمانبرداری اور بزرگانِ دین کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اَحکامِ شرعیَّہ کی بجاآوری میں سستی و کاہلی سےمحفوظ ومامون رکھے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:160
عَنْ اَبِی عَبْدِ اللہِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ([1]) وَ فِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّيْ صُفُوفَنَا حَتَّى كَاَ نَّمَا يُسَوِّيْ بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى اِذَارَاَى اَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ اَنْ يُكَبِّرَ فَرَاَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ فَقَالَ عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ([2])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاابو عبداللہ نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ میں نے رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا: ’’ تم اپنی صفوں کو سیدھارکھو یا پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا ۔ ‘‘ مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرماتےگویا ان سے تیر سیدھے کر رہے ہیں ، یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یقین ہوجاتا کہ ہم آپ کی بات سمجھ چکے ہیں ۔پھرایک دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائےاور جماعت کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تکبیر
کہنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے باہر نکلاہوا دیکھا توفرمایا : ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو!تم اپنی صفیں سیدھی رکھوورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔ ‘‘
صفوں کی درستگی میں صحابۂ کرام کا عمل:
عَلَّامَہ اَبُو الحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ امام کو چاہیے کہ صفوں کی درستگی کے لیے لوگوں کو دیکھے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کودیکھ کر صفیں درست کریں ۔ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم اور امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا صف سیدھی کرنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع