30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَسَلَّمکے دُعا ئے ضررکرنے کی وجہ معلوم ہوجائے کیونکہ ہو سکتاہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتورحمۃٌ لِلْعَالَمِین ہیں ، پھر آپ کسی کے لیے دعائے ضرر کیسے کرسکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ آپ نے یہ دعااس لیے کی کہ اس نے تکبر کی بنا پر دائیں ہاتھ سےکھانا نہ کھایا اگر وہ کسی مجبوری کی وجہ سے اس حکم پر عمل نہ کرتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی بھی اس کے دعائے ضرر نہ فرماتے۔ ‘‘ ([1]) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ زمانۂ جاہلیت میں سردار لوگ الٹے ہاتھ سے کھاتے تھے، معمولی آدمی داہنے ہاتھ سے۔یہ شخص کوئی سردار تھا جو اس متکبرانہ عادت سے الٹے ہاتھ سے کھارہا تھا۔ اس نے شرمندگی مٹانے کے لیے کہا کہ میرا داہنا ہاتھ بیمار ہے منہ تک نہیں پہنچتا۔اسی پر یہ جواب ارشاد ہوا یعنی اب تک تو منہ تک آتا تھا اب نہ آسکے گا۔معلوم ہوا کہ لوگوں کے اعضاء بھی حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے زیر فرمان ہیں ، وہ شخص علاج کرتے کرتے تھک گیا مگر اس کا ہاتھ منہ تک نہ اُٹھ سکا۔ ‘‘ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور میں تکبر کا ذکر ہے۔لہٰذا تکبر کی مذمت کے بارے میں کچھ مفید معلومات پیش خدمت ہیں :
تکبُّر کی وجہ سے پیدا ہونے والی چند بُرائیاں :
تکبر (غرور کرنا ) ایسا مُہْلِک مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیاں لاتااور کئی اچھائیوں سے محروم کردیتاہے۔چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلام امام محمدبن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ متکبرجوکچھ اپنے لیے پسند کرتا ہے اپنے مسلمان بھائی کے لیے پسند نہیں کرسکتا۔ وہ عاجزی اختیار نہیں کرتا حالانکہ یہ تقویٰ و پرہیزگاری کی جڑ ہے، وہ کینہ سے نہیں بچ سکتا، اپنی عزت بچانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا، حسد سے نہیں بچ سکتا، کسی کی خیرخواہی نہیں کرسکتا، دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے، لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے، الغرض متکبِّر آدمی اپنا بھرم رکھنے کے لیے ہربرائی کرنے پرمجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے ۔ ‘‘ ([3])
اسرائیلی عبادت گزار اور گنہگار:
بنی اِسرائیل کا ایک شخص آوارہ اور بد چلن مشہور تھا ۔ایک مرتبہ وہ ایک بہت بڑے عبادت گزار کے پاس سے گزرا جس کے سر پر بادل سایہ فگن تھا ۔ گنہگارنے سوچاکہ میں انتہائی گنہگار ہوں اور یہ بہت بڑا عبادت گزار ہے اگر میں اس کے پاس بیٹھ جاؤں تو امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ پر بھی رحم فرمائے گا۔ چنانچہ وہ اُس کے پاس بیٹھ گیا۔عابد کو اُس کا بیٹھنا بہت ناگوار گزرا اُس نے دل میں کہا: ’’ کہاں مجھ جیسا عبادت گزار اور کہاں یہ پرلے درجے کا گنہگار، یہ میرے پاس کیسے بیٹھ سکتا ہے۔ ‘‘ چنانچِہ اُس نے اسے اپنے پاس سے ہٹا دیا۔اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُس زمانے کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کووحی بھیجی کہ ان دونوں سے فرمائیےکہ وہ اپنے عمل نئے سرے سے شروع کریں ، میں نے اس گنہگار کو (اس کے حسنِ ظن کے سبب) بخش دیا اور عبادت گزار کے ا عمال ( تکبر کے باعث) ضائع کر دیے۔ ‘‘ ([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع