30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، اگرچہ کسی غلام کو تم پر حاکم بنادیا جائے۔اور بے شک !تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ پس تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت اختیار کرنا لازم ہے، اسے مظبوطی سے تھامے رکھنااور اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا ، بے شک ہر نئی بات (جو خلافِ شرع ہو) گمراہی ہے۔ ‘‘
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ایک ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ ہو گئے اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے: (وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا (۶۳) ) (پ۵، النساء: ۶۳) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور اُن کے معاملے میں اُن سے رسا بات کہو۔) حدیث مذکور میں بہنے کی نسبت آنکھوں کی طرف کی گئی جیسا کہ قران مجید میں ہے: ( تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ) (پ۷، المائدۃ: ۸۳) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے اُبل رہی ہیں ۔) گویا کہ آنسوؤں کی جگہ ان کی آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ یہ رونے میں مبالغہ بیان کرنے کے لیے ہے ۔ (صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وعظ کوالوداعی وعظ کہا) کیونکہ وصیت کرنے والا بوقت رُخصت بہت اہم اور ضروری باتیں بیان کرتا ہے ۔ ‘‘ ([1])
امامِ جلیل عِارِف بِاللّٰہحضرت سَیِّدُنَا علّامہ عبدالغنی نابُلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی رحمت شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے الوداع کہنے والے کی طرح نصیحت فرمائی یعنی ایسے شخص کی طرح وصیت کی جو اپنی قوم کو چھوڑ کر جارہاہواوراُنہیں ضروری باتوں کی وصیت کرے تو ایسا شخص نصیحت کرتاہے ، خوف دلاتا ہے ، زجر وتوبیخ کرتا ہے اوراپنی مخالفت سے ڈراتا ہے اوریہ صرف اُن کی بھلائی کی اِنتہائی چاہت کے سبب کرتا ہے کہ کہیں وہ اِس کے بعدگمراہ نہ ہوجائیں ۔ حدیثِ مذکورمیں اس طرف اشارہ ہے کہ مبلغ بیان کرتے وقت حاضرین کونصیحت کرنے میں پوری کوشش کرے اور کوئی ایسی فائدہ مند بات ترک نہ کرے جس کے متعلق جانتاہوکہ حاضرین اس کے لیے دوسری مجلس کے محتاج ہوں گے کیونکہ دوسری مجلس تک زندہ رہنے کاکوئی بھروسہ نہیں ۔اور مبلغ کو چاہیے کہ بغیرمشقت اٹھائے حسبِ موقع حاضرین کو ( عذاب سے) ڈرائے اور زجر وتوبیخ کرے۔البتہ !اس کی عادت نہ بنائے جیسا کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کامبارک عمل تھاکہ کبھی ڈراتے اورکبھی نہ ڈراتے ۔ ‘‘ ([2])
تقویٰ کی اقسام اور اُن کے شرعی اَحکام:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمیں وصیت فرمائیے۔ ‘‘ یعنی اگر معاملہ ایسا ہی ہے کہ وقتِ رخصت ہےتو ہمیں ایسا حکم ارشاد فرمائیے جس میں آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد ہماری دنیوی اور اُخْروی زندگی کے لیے کامل رُشدو ہدایت ہو۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔“ یعنی اس کی نافرمانی سے بچنے اور اُس کے عذاب سے ڈرنے کی۔ فرمان ِ خداوندی ہے: (وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-) (پ۵، النساء: ۱۳۱) ترجمہ ٔ کنزالایمان: اوربے شک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ یعنی تقویٰ کی اِن تینوں اقسام کی تاکید کردی ہے:
(۱) تقوٰیٔ شرک یعنی شرک سے بچو۔
(۲) تقوٰیٔ معصیت یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی سے بچو۔
(۳) تقوٰیٔما سِوَی اللہیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ ہر چیز سے بچو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع