30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عدمِ جواز کے لیے دلیل ضروری ہے:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیث پاک کے اس حصے: ’’ جب کسی بات کا حکم دوں تو اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی میرے اَحکام پر عمل کر نا فرض ہے اور ممنوعات سے بچنا لازم، یہ دونوں کام بقدر طاقت ہیں اگر نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو، اگر جان پر بن جائے تو مُردار کھا لو۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے وجوب و فرضیت کے لیے امر ضروری ہے ایسے ہی حُرمت و مُمانعت کے لیے نہی لازم، جس چیز کا حکم بھی نہ ہو اور ممانعت بھی نہ ہو وہ جائز ہے، ربّ تعالٰی فرماتا ہے: ( وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ- ) (پ۲۸، الحشر: ۷) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اورجو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔) بعض جو کہتے ہیں کہ ’’ جو کام حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے نہ کیا ہو وہ حرام ہے۔ ‘‘ غلط ہے، قرآن شریف کے بھی خلاف ہے اور اس قسم کی احادیث کے بھی۔ ‘‘ ([1])
مدنی گلدستہ
سَیِّدَہ ’’ فاطمہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کثرتِ سوال اور بے جا اختلاف سے بچنا چاہیے کہ بندہ ان کی وجہ سے بسا اوقات مصائب میں بھی گرفتار ہو جاتا ہے۔
(2) ممنوعاتِ شرعیَّہ سے بچنا ضروری ہے، اسی میں ہمارے لیے عافیت اور آخرت کی بہتری ہے ۔
(3) عذرکی وجہ سےاحکام شرعیَّہ میں تخفیف مل جانا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے ہماری کمزوری و ضُعف کی وجہ سے آسانی عطافرمائی۔
(4) احکامِ شرعیَّہ رحمتوں کا خزینہ ہیں ، ان میں کیوں ، کب، اور کیسے کی گنجائش نہیں ۔
(5) جیسے وجوب وفرضیت کے لیے دلیل شرعی ضروری ہے ایسے ہی حرمت وممانعت کے لیے بھی دلیل لازم ہے اور جس چیز کا حکم اورممانعت نہ ہو وہ جائز ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرتِ سوال سے محفوظ فرمائے اور ایسےاِختلافات سے بھی محفوظ فرمائے جو اُمَّت مسلمہ اور دنیا وآخرت کے لیے نقصان کا باعث ہوں ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:157
رسول اللہ کی صَحَابۂ کرام کو وَصِیَّت
عَنْ اَبِي نَجِيْحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا العُيُونُ، فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللهِ! كَاَ نَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا قَالَ: اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَ اِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اِخْتِلَافاً كَثيراً، فَعَليْكُمْ بسُنَّتِي وسُنَّةِ الخُلَفاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِیِّینَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بالنَّواجِذِ، وَاِيَّا كُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الاُمُورِ فاِنَّ كلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابونَجِیح عِرباض بن سارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ہم نے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم! یہ تواَلْوَداعی وعظ معلوم ہوتاہے، آپ ہمیں وصیت فرمائیے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے، (حاکم کی) بات سننے اور اِطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع