30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں کہ حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا: ’’ اے لوگو!اللہ عَزَّ وَجَلَّنےتم پرحج فرض کیا ہے، پس تم حج کرو۔ ‘‘ ایک شخص نےعرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!کیاہرسال حج فرض ہے؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ اس نےتین مرتبہ یہی بات پوچھی۔پھرآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اگرمیں ”ہاں “ کہہ دیتاتو تم پرہرسال حج فرض ہوجاتااورتم اس کی طاقت نہ رکھتے۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حدیث مذکور ارشاد فرمائی۔دارقطنی میں ہے کہ اسی معاملے میں یہ آیت نازل ہوئی:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ- (پ۷، المائدۃ:۱۰۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پرظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں ۔
تفسیر ِطبری میں بھی تقریباًاسی طرح منقول ہے ۔ ([1])
جتنا کہا جائے اتنے پر عمل کرو:
حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبدالحق مُحدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے اس ارشاد”تم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، میں تمہیں چھوڑ دوں ۔“کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی مجھ سے یہ سوال نہ کروکہ کتنا ہےاورکیوں ہےجب تک میں خودبیان نہ کروں کہ کتناہےاورکیوں ہے یعنی جتنا میں کہوں اتنے پرعمل کرو، اگرمطلق حکم دوں تواس کےمطابق عمل کرواورتعیین کردوں تواس پر عمل کرو، کیونکہ مجھےشرعی اَحکام بیان کرنےکےلیےبھیجاگیاہے، جو حکم ہو گا وہ میں تمہارے پوچھے بغیر ہی بیان کر دوں گا۔ ‘‘ ([2])
مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ بے شک! تم سے پہلے کے لوگ کثرتِ سوال اور اپنے نبیوں سےمخالفت کےسبب ہلاک ہوئے۔یعنی تم سے پہلے یہودونصاریٰ کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاک کیے گئے۔جیساکہ ان کا ( حضرت سَیِّدُنَاموسٰی عَلَیْہِ السَّلَامسے) دیدار الٰہی اور کلام کا سوال کرنا، گائے ذبح کرنے کے معاملے میں بِلا وجہ سوالات کرنا وغیرہ ۔ان کے سوال کے بعد اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام جب انہیں کسی چیز کاحکم دیتے تو وہ اس کی مخالفت کرتے لہٰذاوہ ہلاک کر دیے گئے۔ سرکارصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ جب میں کسی فرض کا حکم دوں تو اسےحسبِ طاقت ادا کرو، کیونکہ جو تمام فرائض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ انہیں کلیۃً ترک نہ کرے۔ ‘‘ ([3]) (بلکہ جس کی طاقت ہو اسے بجالائے ۔)
عذرشرعی کی بِناپراَحکام میں تخفیف:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو ا سےچھوڑدو ۔یہ فرمان عالی مطلق ہے کیونکہ مجبوری کے وقت بعض ممنوع چیزیں مباح ہو جا تی ہیں جیساکہ مجبوری وحالت اِضطرار میں مُردار کھانا، شراب پینایاکلمۂ کفر منہ سے نکالنا (جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو) اسی طرح اور بھی کئی مسائل ہیں ۔یہ حدیث جوامِعُ الکَلِم اور قواعدِ اِسلامیَّہ میں سے ہےاور اِس اُصول میں بےشماراَحکام داخل ہیں ۔ ‘‘ ([4])
[1] فتح الباری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب الاقتداءبسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔الخ،۱۴ / ۲۲۳، تحت الحدیث: ۷۲۸۸۔
[2] اشعۃ اللمعات،کتاب المناسک،الفصل الاول،۲ / ۳۲۰۔
[3] مرقاۃ المفاتیح، کتاب المناسک،الفصل الاول ،۵ / ۳۸۰،تحت الحدیث: ۲۵۰۵۔
[4] شرح مسلم للنووی،کتاب الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمرۃ، ۵ / ۱۰۲، الجزء التاسع ملتقطا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع