30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تم انہیں میری طرف بلاتےہو اور سیدھی راہ کی پہچان کراتےہو۔ امام سَدیّعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مروی ہے فرماتے ہیں :یعنی تم لوگوں کو دینِ مستقیم کی طرف بلاتے ہو اور وہ دینِ اسلام ہے، اوریہ وہ دین ہے جس کی طرف اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں کو بلایاہے۔ ‘‘ ([1])
(9) منافقین کےلیےوعید
ارشادباری تعالٰی ہے:
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۶۳) (پ۱۸، النور:۶۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا اُن پر درد ناک عذاب پڑے۔
تفسیر طبری میں ہے: ’’ جولوگ ایساکرتےہیں ( یعنی منافقین جوجمعہ کےدن خطبہ سننے سے بچنے کےلیے چپکے سے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی آڑ لےکر مسجد سے نکل جاتے تھے) وہ ڈریں کہ کہیں انہیں کوئی فتنہ یا درد ناک عذاب نہ پہنچے۔یہاں فتنہ سے مرادکفر ہے یا یہ معنی ہے کہ اس نازیباحرکت اور رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے حکم کی مخالفت پر انہیں دنیا ہی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے درد ناک عذاب پہنچنے سے ڈرنا چاہیے۔ ‘‘ ([2])
(10) اُمہاتُ المؤمنین پر خاص کرم
ارشادِ خدا وندی ہے:
وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِؕ- (پ۲۲، الاحزاب:۳۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت۔
تفسیرِخاز ن میں ہے: ’’ اس آیت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنےحضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواجِ مُطَہَّرَات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّسےخطاب فرمایاکہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایسے گھرکوتمہارامسکن بنایاجس میں اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اورحکمت بیان ہوتی ہے، لہٰذاتم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس نعمت پراس کاشکراداکرواور حمدبجالاؤ۔حکمت سے مراد اَحادیث مبارکہ ہیں ۔ ‘‘ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:156
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَعُوْ نِي مَا تَرَكْتُكُمْ :اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ کَثْرَۃُ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى اَنْبِيَائِهِمْ ، فَاِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ ، وَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَیْءٍ فَاْ تُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ. ([4])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ تم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، مَیں تمہیں چھوڑ دوں ۔بے شک! تم سے پہلے لوگوں کو کثرتِ سوال اوراپنے نبیوں سے اختلاف نےہلاک کر دیا۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اُس سےبچو اور جب کسی بات کا حکم دوں تو اُسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع