30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم نہ پاؤ تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف رجوع کرواور حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےوصالِ ظاہری کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں یعنی احادیث مبارکہ کی طرف رُجُوع کرو۔ ‘‘ ([1])
(7) رسول کا حکم ماننا اللہ کا حکم ماننا ہے
فرما نِ خداوندی ہے:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ۵، النساء:۸۰)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔
تفسیر ِخازن میں ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی۔ ‘‘ یہ سن کر بعض منافقین نے کہا: ’’ یہ صاحب چاہتے ہیں کہ ہم انہیں خدا مان لیں (مَعاذَ اللہ) جیسے نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا مان لیا تھا۔ ‘‘ اس پریہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اورفرمایا گیا کہ جس نے اَمْر و نَہی میں رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی اطاعت کی۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہی اس کا حکم فرمایا ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور اس سے مسلمانوں پر حجت قائم ہوگئی ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’ ہر فرض عبادت جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن مجید میں فرض کیا ہے جیسے حج، نماز، زکوٰۃ وغیرہ اگر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے بارے میں بیان نہ فرماتے تو ہم کبھی بھی یہ بات نہ جان پاتے کہ ان عبادات کو کس طرح ادا کرنا ہے اور ہمارے لیے ان کی ادائیگی کبھی ممکن نہ ہوتی۔پس رسول ُاللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی اطاعت در حقیقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی اطاعت ہے۔ ‘‘ ([2])
اِمَام فَخرُالدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتےہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ جس نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی اِطاعت اس لیے کی کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں اور اُمَّت کی طرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحکام پہنچانے والے ہیں تو درحقیقت اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی اطاعت کی اوریہ توفیق الٰہی کے بغیر ممکن نہیں ۔یہ آیت اس بات کی قوی ترین دلیل ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے جو اَحکام مخلوق تک پہنچاتے ہیں ، آپ اُن میں غلطی و خطا سے معصوم ہیں کیونکہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکسی چیز میں خطا کرتے تو آپ کی اطاعتاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت نہ ہوتی۔ اسی طرح اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّماپنے تمام اَفعال میں معصوم ہیں ، اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی پیروی کا حکم دیا۔ ‘‘ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(8) ہادیٔ کونَین
فرما نِ باری تعالٰی ہے:
وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ (۵۲) (پ۲۵، الشوری:۵۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور بے شک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔
تفسیرطبری میں ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نبی صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے فرمارہا ہے: اے محبوب! تم میرے بندوں کو سیدھی راہ کی طرف بلاتےہو کیونکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع