30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:کَانَ رَسُوْ لُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ اَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً. ([1])
ترجمہ :اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی رات کی نماز (یعنی تہجد) کسی بیماری وغیرہ کے سبب رہ جاتی تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم دن میں بارہ 12رکعت نماز پڑھتے۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ اَوْرَاد و وَظَائف پر محافظت کرنا مستحب ہے اور اگر وظیفہ رہ جائے تو اس کی قضاء کی جائے۔ ‘‘ ([2])
رات کی نماز سےکونسی نمازمرادہے؟
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رات کی نماز سے مراد تہجد کی نماز ہے، نیند کے غلبے یا کسی اور اہم کام کی وجہ سے جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز تہجد نہ پڑھ پاتے تو دن میں بارہ 12رکعتیں پڑھ لیتے۔علامہ ابن حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارہ رکعتیں نماز تہجدکی فضیلت پانے کے لیے پڑھتے نہ کہ قضاء کے طور پر، کیونکہ تہجد کی نماز کی رکعت کی تعداد اتنی نہیں ہوتی اور قضاء کبھی بھی ادا سے زائد نہیں ہوتی۔ ‘‘ ([3])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے ) یعنی زوال سے پہلے پہلے یا اس لیے پڑھتے کہ آپ پر نمازِ تہجد فرض تھی اور فرض کی قضا ضروری ہے تب تو یہ قضا آ پ کی خصوصیت ہے یہ اس لیے کہ جس کی تہجد رہ جائے اور وہ زَوال سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھ لے تو تہجد کا ثوا ب پائے گا۔ ‘‘ ([4])
رات میں کثرتِ نوافل کی پانچ حکایات:
(1) حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیزبن رواد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَّادرات کو سونے کے لیے اپنے بستر پر آتے اور اس پر ہاتھ پھیر کر کہتے: ’’ تُو نرم ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!جنَّت میں تجھ سے زیادہ نرم بستر ملے گا پھر ساری رات نماز پڑھتے رہتے ۔ ‘‘
(2) حضرتِ سَیِّدُناصِلَہ بن اَشْیَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَمساری رات نَماز پڑھتے۔ جب سحری کاوقت ہوتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کرتے:الٰہی!میرے جیسا آدمی جنّت نہیں مانگ سکتا لیکن تو اپنی رَحمت سے مجھے جہنم سے پناہ عطا فرما۔ ‘‘
(3) حضرتِ سَیِّدُنَاربیع بن خُثَیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بیٹی نے آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے عر ض کی: ’’ ابّا جان! کیا وجہ ہے کہ لوگ سو جاتے ہیں اورآپ نہیں سوتے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ بیٹی !تمہارا باپ ناگہانی عذاب سے ڈرتا ہے جو اچانک رات کو آجائے۔ ‘‘
(4) حضرتِ سیِّدُنا صَفْوان بن سُلَیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی پنڈلیاں نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے سوج گئی تھیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس قدر کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے کہ بالفرض آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے کہہ دیا جاتا کہ کل قِیامت ہے تو بھی اپنی عبادت میں کچھ اضافہ نہ کر سکتے (یعنی ان کے پاس عبادت میں اضافہ کرنے کے لیے وقت کی گنجائش ہی نہ تھی) جب سردی کا موسم آتا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکان کی چھت پر سویا کرتے تاکہ سردی آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو جگائے رکھے اورجب گرمیوں کا موسم آتا تو کمرے کے اندر آرام فرماتے تاکہ گرمی اورتکلیف کے سبب سو نہ سکیں ۔سجدہ کی حالت میں ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع