30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیک کام پر ہمیشگی اختیار کرنا مستحب ہے:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ رات میں قیام کرنا واجب نہیں ہےکیونکہ اگر واجب ہوتا توسرکارِدوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیامِ لیل چھوڑنے والے کے لیے اتنی ہی بات پر اِکتفا نہ فرماتے بلکہ اس کی مذمت بھی فرماتے۔اِفْرَاط وتَفْرِیط کے بغیر کسی نیک کام پر ہمیشگی اختیار کرنا مستحب ہے۔حدیثِ مذکور میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو نفلی عبادت کا عادی ہو پھر ( بلاعذر) اسے ترک کر دے تو یہ مکروہ ہے۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ یعنی اس خصلت میں فلاں کی طرح نہ ہوجانا کہ وہ رات کے بعض حصے میں نمازِتہجد پڑھتا تھا، پھر بغیر کسی عُذر کے اسے چھوڑ دیا ۔پس جس چیز کو اس نے اپنے ذمے لیا تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہا۔حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت کو چھوڑنا اوراپنی عادت کی طرف لوٹنا ایسا ہی ہے جیسے سفر سے الٹے پاؤں واپس لوٹنا اورزیادہ کے بجائے کمی کی طرف آنا ۔ ‘‘ ([2])
تہجد گزار کاتہجد چھوڑنا بُرا ہے:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہواکہ تہجد گزار کو (بِلا عذر محض سستی کی وجہ) تہجد چھوڑنا بہت بُراہے۔اشعۃاللمعات میں ہےکہ عبداللہ ابن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تمام رات عبادت کرتے تھے، ان کے والد اس سے منع کرتے تھے مگر نہ مانتے تھے چنانچہ ان کے والد نے بارگاہ رسالت میں ان کی شکایت کی تب حضور انورصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نےیہ ارشاد فرمایا۔مقصد یہ ہے کہ تم سے یہ عبادت نبھ نہ سکے گی اور تم اصل تہجد بھی چھوڑ بیٹھو گے۔ شیخ ابن حجر (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں کہ بہت تلاشی کے باوجود ان صاحب کا نام نہ ملا جو یہ قیام چھوڑ بیٹھے تھے۔ ‘‘ ([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اِفراط وتفریط کے بغیر نیک کا م پر ہمیشگی اختیارکرنامستحب ہے۔نیز عبادت اگر واجب نہ ہو تب بھی اس عبادت کوترک کرنامکروہ ہے۔
(2) دکھاوےکےلیے کوئی نیک عمل کرنا قابلِ مذمت ہے۔
(3) کسی شخص کومُعَیَّن کیے بغیراس کاعیب بیان کرناجائزہےجبکہ مقصود کسی کی اصلاح ہو۔
(4) چندروزعبادت کرکے پھر چھوڑدیناقابل مذمت ہے۔
(5) کسی عذرکی وجہ سے اگر کبھی نفلی عبادت ترک ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہےکہ وہ ہمیں عبادت میں خشوع وخضوع عطافرمائےاورہماری تمام خطاؤں کو اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے صدقے معاف فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:155
تَہَجُّد کے بدلے بارہ 12رکعتیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع