30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نامۂ اعمال میں اسی طرح اجرلکھا جائے گا جس طرح رات میں پڑھنے والے کے لیے لکھا جاتا ہے۔ ‘‘ ([1])
دن اوررات ایک دوسرےکےخلیفہ ہیں :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ بعض علماءنے فرمایا کہ اگر تہجد رہ گئی ہو تو دوپہر سے پہلے اتنے نفل پڑھ لے تو اِنْ شَآءَاﷲ تہجد کا ثواب مل جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کا خلیفہ دن ہے۔ربّ تعالٰی فرماتاہے: ( جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً) (پ۱۹ ، الفرقان:۶۲ ) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان:جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی) لہٰذا رات کے اعمال دن میں ہوسکتے ہیں ، نیزدن کے اَوَّل حصہ پر رات کے بعض احکام جاری ہیں ، اسی لیے نفل اور رمضان کے روزے کی نیت ضحوہ کبریٰ سے پہلے ہوسکتی ہے، گویا اس نے رات سے ہی نیت کی۔ اسی طرح اگر دن کا وظیفہ رہ جائے تو رات میں ادا کرلے کیونکہ دن کا خلیفہ رات ہے۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ صوم ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنےبندوں کوان کےعمل سے زیادہ اجر عطافرماتاہے۔
(2) ممکن ہوتورات کےوقت عبادت کی کثرت کرنی چاہیے کیونکہ یہ دن کے مقابلے میں زیادہ فضیلت والی ہے ۔
(3) پابندی سےتہجدپڑھنےوالا اگرکسی روزتہجدادانہ کرسکےتودوپہرہونےسےپہلےاتنی تعداد میں نوافل پڑھ لے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تہجد کاثواب پائےگا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں پابندی کے ساتھ ذکرواَذکارکرنے، فرائض وواجبات وسنن کے ساتھ ساتھ کثرت سےنوافل کی ادائیگی کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میری زبان تر رہے ذکرودرود سے
بے جا ہنسوں کبھی نہ کروں گفتگو فضول
ذکر و درود ہرگھڑی وردِ زباں رہے
میری فضول گوئی کی عادت نکال دو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:154
تَہَجُّد پابندی سے اَداکرنی چاہیے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُوْمُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ.([3])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ سرکار ِمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا: ’’ اے عبداللہ!اس شخص کی طرح نہ ہوجانا جو رات کو قیام کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع