30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ (۹۹) ( پ۱۴، الحجر:۹۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور مرتے دم تک اپنے ربّ کی عبادت میں رہو۔
امام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھادِیاس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی اپنی زندگی کے زمانے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرواور زندگی کےلمحات سے کسی بھی لمحہ کو عبادت سے خالی نہ جانے دو۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ بَیْضَاوِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس آیت کے تحت لکھتے ہیں : ’’ مرتے دم تک اپنے ربّ کی عبادت میں رہو کیونکہ موت کا آنا یقینی ہے اور مخلوق میں سے ہر زندہ کو موت آئے گی۔ چنانچہ جب تک زندہ رہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتےرہواور زندگی کا کوئی لمحہ عبادت سے خالی نہ جانےدو۔ ‘‘ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:153
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ نَامَ عَنْ حِزْ بِهِ مِنَ اللَّیْلِ اَوْعَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَاَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ ، كُتِبَ لَهُ كَاَ نَّمَا قَرَاَهُ مِنَ اللَّيْلِ. ([3])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاعمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جوشخص اپنا رات کاوظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جا ئے، پھر فجراورظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو اس کے لیے رات کو پڑھنے کی طرح اَجر لکھا جاتاہے ۔ ‘‘
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ یہ محض فضلِ خداوندی ہےکہ وہ اسے پورا ثواب عطا فرماتا ہے ۔یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رات کے نوافل ووظائف دن کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ رات کے وقت نیند کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقفرماتے ہیں :رسولِ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جو شخص رات میں نماز پڑھنے کا عادی ہو پھراس پر نیند کا غلبہ ہو اور وہ اپنی رات کی نماز پڑھے بغیر سو جائےتو اس کے لیے اس کی نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اس کی نیند اس کے لیے صدقہ ہے۔ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کمال درجے کا فضل ہے اور بندے کی نیت کا صلہ ہے اوریہ فضیلت اس کے لیے ہے جس کی رات میں عبادت کرنے کی عادت ہو۔ حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے پورا ثواب ملے گا جیسا کہ نماز پڑھنے پر ملتا ہےکیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّنےاسے اس فعل سے روکا ہے۔ ‘‘ ([4])
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں ظہر سے پہلے اس حکم کواس وجہ سے خاص کیا کہ ظہر کا وقت بغیر کسی فاصلے کے رات کے آخری حصے سے ملا ہوا ہےسوائے فجر کی نماز کے۔اسی لیے اگرنفلی روزہ رکھنے والے نے زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرلی تو اس کا روزہ صحیح ہے، اس کے بعد اِس کی نیت درست نہیں ۔جس کا رات کا کوئی وظیفہ چھوٹ جائے اوروہ اسے ظہر سے پہلے پڑھ لے تو اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع