30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفسیر روح البیان میں ہے : ’’ کیاایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کی طرف جھک جائیں اوراس کے ذکر سے اطمینان حاصل کریں اوربغیر کسی سستی اور کمی کے اس کے اَحکامات پرعمل کر کے اوراس کی منع کردہ چیزوں سے اپنے آپ کو روک کراس کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف جھک جائیں ۔ ‘‘ ([1])
تفسیر خازِن میں ہے: ’’ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی طرح ہونے سے منع فرمایا ہے کہ جب یہود و نصاریٰ کی طرف عرصے دراز تک کوئی نبی نہیں آئے تو ان کے دل سخت ہوگئے یعنی وہ دنیا کی طرف مائل ہوگئے۔ ‘‘ ([2])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ ﳔ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةًؕ- وَ رَهْبَانِیَّةَ ﰳ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَاۚ- ( پ۲۷، الحدید : ۲۷)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ان کے پیچھے عیسٰی بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیرووں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی اور راہب بننا تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرّر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا۔
تفسیر ِخازن میں ہے: ’’ حضرت سَیِّدُنَا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پیرو کاروں کے دل میں نرمی رکھی یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت و شفقت رکھتے تھے ۔پھرا نہوں نے اپنے اوپر رہبانیت لازم کر لی ۔ یعنی وہ لوگ پہاڑوں ، غاروں ، تنہا مکانوں اور خانقاہوں میں خلوت نشین ہوگئے، انہوں نے اپنے اوپر عبادت میں زائد مشقت کو لازم کر لیا اور نکاح نہ کیا، سادہ غذااور موٹے کپڑے استعمال کرنے لگے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا:ہم نے ان پر رہبانیت فرض نہیں کی بلکہ انہوں نے رضا ئے الٰہی کے حصول کے لیے اسےخود اپنے اوپر لازم کیا، لیکن اسےنبہا نہ سکے بلکہ اس کو ضائع کردیا اور شرک میں مبتلا ہوئے۔حضرت سَیِّدُنَا عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکے دین کا انکار کیا اور اپنے بادشاہوں کے دین میں داخل ہوگئے، ان میں سے بعض لوگ دینِ عیسی پر قائم رہےیہاں تک کہ انہوں نے حضور نبی اکرم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے دَور کو پایا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائے۔ ‘‘ ([3])
(3) بے وقوف عورت
ارشاد باری تعالی ہے:
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًاؕ- ( پ۱۴، النحل:۹۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا ۔
علامہ اسماعیل حقّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی اے مؤمنو! وعدہ توڑنے میں اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ کہ جواپناسوت مضبوطی سے کاتتی ہے پھراسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔کلبی اور مُقَاتل کہتے ہیں کہ یہ عورت رَبْطَہ بِنْتِ سَعْدتھی، مکہ کی رہنے والی تھی اور انتہائی بے وقوف اور وسوسے کے مرض میں مبتلا تھی، یہ اوراس کی باندیاں صبح سے دوپہر تک (بہت محنت کرکے ) سوت کاتتی رہتیں ، پھر تمام سوت کاتنے کے بعد یہ انہیں حکم دیتی کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کردو۔ ‘‘ ([4])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع