30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اِباحت و تملیک دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کونصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روزبقدرِ صدقۂ فطر دے دیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دے دے۔ ‘‘ ([1])
مدنی گلدستہ
امام ’’ حُسَیْن ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مباح کاموں کوعبادت سمجھ کرترک کرنا عبادت نہیں ہے۔ عبادت صرف وہی کام کہلائے گا جس کو شریعت مطہرہ نے عبادت کہا ہو ۔
(2) جس نذرکوپوراکرنے میں کسی نقصان کااندیشہ ہوتواسےپورانہ کرے بلکہ کفارہ اداکردے۔
(3) نذرسوچ سمجھ کرماننی چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ بعدمیں مشکل میں پڑجائےاور نذرپوری نہ کرسکے۔
(4) خطبہ کھڑے ہوکر دینااور بیٹھ کر سنناسنت مبارکہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے، جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی بھی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانےکےلیےاس پر ہمیشگی اختیار کرنا ضروری ہے، جو کام اِستقامت وتسلسل کے ساتھ کیا جائے وہ ایک نہ ایک دن پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچنے کےلیے ہمیشگی اور پابندی کےساتھ اس کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری ہے۔ مسلسل سفر کرنے والا طویل راستے کوبھی ایک نہ ایک دن آسانی اورسہولت کے ساتھ طے کر لیتا ہے ۔اِسی طرح اَعمالِ صالحہ پرمُحافظت وہمیشگی اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔
ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ اَعمال پر محافظت ‘‘ کے بارے میں ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں 4چار آیاتِ کریمہ اور 3اَحادیثِ مبارَکہ بیان فرمائی ہیں ۔ اس باب میں آیات کی تفسیر، احادیث کی تشریح، نیزاَعمالِ صالحہ پراستقامت کی اہمیت وفضیلت اور باب سے متعلق دیگر رِوایات و حکایات بیان کی جائیں گی، پہلےآیات مبارکہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1) مؤمنوں کے دِل یادِالہی میں جھک جاتے ہیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ-وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ (۱۶) ( پ۲۷، الحدید:۱۶)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اُترا اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت فاسق ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع