30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابواسرائیل انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُصحابی تھے۔اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ مباح کاموں یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کو چھوڑنا عبادت نہیں ۔اسی طرح دھوپ میں بیٹھنا اورہر وہ کام جس سے انسان کو تکلیف ہو اور قرآن و حدیث میں اس پر ثواب نہ ہو تو وہ عبادت نہیں ۔عبادت تو وہی عمل ہے جس کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کےرسو ل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا ہے۔ ‘‘ ([1])
جائزکام کی مَنَّت پوری کرنا ضروری ہے:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اسے چاہیے کہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیونکہ نیک کام کی منت پوری کرنا واجب ہے اور صیام دہر مستحسن ہےاس شخص کے لیے جو اس کی قدرت رکھتا ہو اور اس سے وہ پانچ دن مستثنیٰ ہو ں گے جن میں شرعًا اور عرفًا روزے رکھنا منع ہے، اگر ان ایام کے روزوں کی بھی منت مانی تھی تو احناف کے نزدیک اس پر واجب ہے کہ ان ایام کے روزے نہ رکھے اور کفارہ دے۔سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے حکم دیا ہے کہ وہ کلام کرے کیونکہ کبھی کبھی بولنا واجب ہوتاہے جیسا کہ سلام کا جواب دینا اور نماز میں قراءت کرنا اور اِن کو ترک کرنا گناہ ہے۔بہرحال ہمیشہ نہ بیٹھنا اور سائے میں نہ جانا یہ ایسے کا م ہیں جن کی انسان طاقت نہیں رکھتا تو سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَاابواسرائیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوقسم پوری کرنےسے پہلے ہی اسے توڑنے کاحکم دیاتاکہ وہ نذرپوری کرکے نقصان نہ اُٹھائیں ۔اَصحاب ابوحنیفہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکہتے ہیں کہ اگر کسی نے عید کے دن کے روزے کی منت مانی تو عید کے علاوہ کسی اور دن کا روزہ رکھنا واجب ہے۔ ‘‘ ([2])
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (دوران خطبہ ایک شخص کھڑا تھا ) اس طرح کہ سب لوگ بیٹھ کر خطبہ سن رہے تھے مگر یہ صاحب حضورِ انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے کھڑے ہو کر سُن رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ پڑھنا کھڑے ہو کر سنت ہےاور سننا بیٹھ کر سنت، اسی لیے تو حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کے کھڑے ہونے پر تعجب فرمایا۔یہ حضرت (ابو اسرائیل) بنی عامر ابن لوی کی اولاد سے تھے، قریش کے ایک خاندان سے۔ان کا نام ابواسرائیل ہی تھا۔ انہوں نے نذر مانی یعنی نماز کے علاوہ کسی وقت نہ بیٹھے گا اور کسی انسان سے کلام نہ کرے گا، یہ مطلب نہیں کہ التحیات میں بھی نہ بیٹھے گا اور نماز میں تلاوت وغیرہ بھی نہ کرے گا، عادات کی نفی ہے عبادات کی نفی نہیں ۔ یعنی خاموش رہنا، سایہ میں نہ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں بلکہ حرام ہے کیونکہ نماز میں قراءت فرض ہے اور التحیات میں بیٹھنا واجب بھی ہے فرض بھی، اسی طرح ہمیشہ کھڑا رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے، یہ نذرتوڑدےمگرروزہ چونکہ عبادت ہے اس لیے اسے پورا کرے۔ خیال رہے کہ ابواسرائیل نے ہمیشہ کھڑے رہنے، ہمیشہ خاموش رہنے، سایہ میں نہ بیٹھنے ، ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی، حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے پہلی نذریں توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکوئی ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانے وہ سال میں پانچ حرام روزوں کے سوا تمام دن روزے رکھے اور ان پانچ دنوں میں روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ دے، نذرکا کفارہ وہ ہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، امام شافعی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) کے ہاں ان دنوں کی نذر درست ہی نہیں ۔ ‘‘ ([3])
قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے۔ یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا انہیں کو شام کے وقت بھی کھلائے، دوسرے دس مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع