30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ صومِ داؤدی سے افضل کوئی نفلی روزہ نہیں ۔ صو مِ دہر کے بارے میں اِختلاف ہے، اہل ظَوَاہِر کے نزدیک ممنوع ہےکیونکہ وہ اَحادیث کے ظاہر سے دلیل پکڑتے ہیں ۔جبکہ جمہور کے نزدیک صومِ دہر جائز ہے بشرطیکہ جن ایام میں روزہ رکھنا منع ہے ان میں روزہ نہ رکھے جیساکہ عِیدَین اور اَیَّامِ تشریق کے روزے ۔ امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے نزدیک صومِ دہر مُسْتَحَب ہے۔ ‘‘ ([2])
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں : ’’ یہاں (حدیث پاک میں ) نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اور روزے سے نفلی روزے۔ جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر انبیائے کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) بھی تہجد اور نفلی روزے اداکرتے تھے مگر ان کے طریقے اور تھے۔حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ طریقہ تھا جو یہاں مذکو رہے یعنی دو تہائی رات سوتے اور ایک تہائی رات جاگتے تھے اور اس جاگنے اور نماز کو دو نیندوں کے درمیان کرتے، اب بھی یہی چاہیے۔اسی طرح نوافل تہجد اور نفلی روزوں کی محبوبیت کی چند وجوہ ہیں : (1) ایک یہ کہ اس میں روح کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور نفس کا حق بھی، تمام رات سونے، ہمیشہ افطار کرنے سے روح کا حق رہ گیااور رات بھر جاگنےہمیشہ روزے میں نفس کا حق مارا گیا۔ (2) دوسرے یہ کہ اس طرح تہجدوروزے نفس پر بھاری ہیں ۔ لہٰذا ربّ کو پیارے ہیں کیونکہ ہمیشہ روزے رکھنے میں روزہ عادت بن کر آسان معلوم ہونے لگتا ہے مگر اس طرح ہر روزے میں نئی لذّت محسوس ہوتی ہے۔ (3) تیسرے یہ کہ اس میں جسمانی طاقت بحال رہتی ہے، گھٹتی نہیں ۔ طاقت ہی سے ساری عبادتیں ہوتی ہیں ۔خیال رہےکہ ہمارےحضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے صرف تیرھویں ، چودھویں ، پندرھویں کےروزے رکھے۔کبھی یہ بھی کیا کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے، کچھ میں مسلسل افطار تا کہ اُمَّت پر آسانی ہو۔نیز حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمابوالوقت ہیں ، جو عمل کریں وہ افضل ہے۔رات کی ہر ساعت کو حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کےنفل سے شرف حاصل ہوا اور مہینہ کی ہر تاریخ کو حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے روزے سے عزت ملی۔ ‘‘ ([3])
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی”اشعّۃ اللمعات “میں فرماتےہیں : ’’ یہاں ایک اشکال ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکےاس فعل پر دائماً عمل پیرا نہ تھےتوپھریہ عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنزدیک سب سےمحبوب عمل کیسےبن گیا؟ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحبوب ترین عمل کو کیسے ترک کرسکتےہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فعلِ مذکور کامحبوب تر ہونا بعض اعتبارات سےہے، ہرلحاظ سے نہیں ۔وہ بعض اعتبارات یہ ہیں :*یہ عمل اِعتدال کےزیادہ قریب اورحفظِ صحت کےلحاظ سےزیادہ مفیدہے۔*ایک وجہ یہ بھی ہےکہ رات کےآخری چھٹے حصے میں سونا تھکاوٹ و مشقت دورکرتا ہے اور رنگ کی زردی وشکستگی کی صورت میں عبادت کااثرظاہرنہیں ہونے دیتا اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافعل احوال واوقات کےتقاضوں کےمطابق مختلف ہوتاتھااوربے شمار حکمتوں اورمصلحتوں پرمبنی ہوتاجوآپ کی ذات کریم اورآپ کی اُمَّت مرحومہ سےتعلق رکھتی ہیں کیونکہ آپ کی اُمَّت میں کمزور اورطاقتورہرقسم کےلوگ ہیں ۔ ‘‘ ([4])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع