30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا پورا کرنا ضَروری ہے، مَثَلًا کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کابِغیر قسم (بھی) کرنا ضَروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی (کہ گنا ہ سے بچنے کی قسم نہ بھی کھائیں ، تب بھی گناہ سے بچنا ضَروری ہی ہے) تو اس صورت میں قسم سچّی کرنا ضَرورہے۔مَثَلًا (کہا) خدا کی قسم ظُہرپڑھوں گا یا چوری یا زِنا نہ کروں گا۔* (قسم کی) دوسری (قِسم) وہ کہ اُس کا توڑنا ضَروری ہے مَثَلًا گناہ کرنے یا فرائض و واجِبات (پورے) نہ کرنے کی قسم کھائی، جیسے قسم کھائی کہ نَماز نہ پڑھوں گا یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام (یعنی بات چیت) نہ کروں گا تو قسم توڑ دے۔*تیسری وہ کہ اُس کا توڑنا مُستَحب ہے مَثَلًا ایسے اَمر (یعنی مُعاملے یاکام) کی قسم کھائی کہ اُس کے غیر (یعنی علاوہ) میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔*چوتھی وہ کہ مُباح کی قسم کھائی یعنی (جس کا) کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہے اس میں قسم کا باقی رکھنا افضل ہے۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفر ماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہ رکھ سکو گے۔ممکن ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی موجوہ حالت دیکھ کریہ ارشاد فرمایا ہو، کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے تھے کہ وہ اس طرح مشکل میں پڑجائیں گے اوراپنے آپ کو مشقت میں ڈالیں گےاور اُن سے اِس سےزیادہ اہم چیزیں چھوٹ جائیں گی۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاُن کے بڑھاپے کے بعد کی زندگی کا اعتبار کیاہو کہ جب بڑھاپے کو پہنچیں گے تو اس عبادت سے عاجز آجائیں گے اور یہ ناپسندیدہ عمل ہے کہ کوئی شخص کسی عبادت کو اپنے اوپر لازم کرے پھر عاجز آکر اسے چھوڑ دے۔ ‘‘ ([2])
سَیِّدُنَاداؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی جرأت مندی :
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام دشمن سے مقابلے کے وقت پیچھے نہ ہٹتے تھے۔یہ فرمان اس بات پر تنبیہ ہےکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح روزہ رکھنے والا دشمن کےمدمقابل آنے میں ضُعف محسوس نہیں کرتاکیونکہ وہ ایک دن کاروزہ نہ رکھ کر دوسرے دن کے روزے پر قوت حاصل کرتا ہے، اسی وجہ سےفرمایاکہ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں میں زیادہ عبادت گزارتھےکہ آپ اپنی طاقت وقوت کی بناپرجنگ سےراہِ فرار اختیارنہیں کرتےتھے۔ ‘‘ ([3])
صومِ داؤدی صومِ دہر سے افضل ہے:
عَلَّامَہ اَبُو الْعَباس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد قَسْطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ صومِ داؤوی روزوں میں افضل ہے۔یہ صومِ داؤدی کے مطلقاً افضل ہونے پر دلالت کرتا ہے اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ صومِ داؤدی سے زیادہ روزے رکھناضرورت سے زائد ہے ۔جب سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے کہا کہ میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہو ں تو حضور نبی مکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا: ’’ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔ ‘‘ پس صومِ داؤدی ( ایک دن چھوڑ کر ایک دن نفلی روزہ رکھنا) صومِ دہر (یعنی مسلسل روزے رکھنے) سے افضل ہے۔اور صومِ داؤدی کو اس اعتبار سے بھی ترجیح حاصل ہے کہ مسلسل روزے رکھنے سے بعض حقوق فوت ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ جو اس کا عادی ہو اسے روزہ رکھنے میں مشقت نہیں ہوتی کیونکہ اس کی کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے اور دن بھر کھانے پینے کی حاجت نہیں ہوتی اور وہ رات میں کھانا پسند کرتا ہے گویا کہ یہ چیز اس کی طبیعت میں شامل ہوجاتی ہے بر خلاف اس کے جوایک دن روزہ رکھتا ہے اورایک دن چھوڑتاہے کیونکہ اس کی طبیعت بدلتی رہتی ہے کہ ایک دن وہ روزے سے ہوتا ہے اور دوسرے دن بغیر روزے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع