30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
احترام کی بناپر آپ کے لیے کھانے کا اہتمام کیا خود چونکہ روزے سے تھے، اس لیے کھانے سے انکار کیا۔ حضرت سَیِّدُنَا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں ساتھ کھلانے پر اِصرار کیا، غرض یہ تھی کہ حضرت سَیِّدُنَا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عبادت میں اپنے نفس کو بہت زیادہ مشقت میں ڈالنےکی رائےبدل دیں اوریہی شکایت ان کی زوجہ کوبھی تھی۔حضرت سَیِّدُنَا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سَیِّدُنَاسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعظیم کرتے ہوئے نفلی روزہ توڑدیا اور آپ کا یہ روزہ توڑناعذر کی وجہ سے تھا لہٰذا آپ کو اس پر ثواب دیاجائے گا۔
حضرت سَیِّدُنَا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سَیِّدُنَا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کومیانہ روی اختیار کرنے کی حکمت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: ’’ تم پر تمہارے ربّ کا حق ہے اور وہ حق عبادت ہے اورتم پر تمہارےنفس کابھی حق ہےاور وہ کھانا پینا ہے جس کے ذریعےقوت حاصل ہوتی ہے اور نیند ہے جس کے ذریعے صحت ملتی ہےاور تم پر تمہارے گھر والوں یعنی تمہاری زوجہ کا حق ہے اور وہ حق یہ ہے کہ تم ان کے پاس آؤ اور ان کی خواہش پوری کرو۔ ‘‘ ([1])
ضیافت مہمان اور میزبان دونوں کے لیے نفلی روزہ توڑنے کا عذر ہے۔ شریعت مطہرہ نے اس کی اجازت دی ہے بلکہ اپنے مسلمان بھائی کی دِل جوئی پر ثواب بھی رکھاہے جیسا کہ”مَرَاقِی الفَلاح شرح نُورِ الاِیضاح“میں ہے: ’’ کوئی شخص نفلی روزہ رکھے اور اپنے بھائی کے گھر جائے ، وہ اسے کھانے کی دعوت دے تو اسے روزہ توڑ نا جائز ہے۔حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس فرمان کی بنا پر کہ ”جس نے اپنے مسلمان بھائی کے حق کے لیے اپنا (نفلی ) روزہ توڑ دیا تو اس کے لیے ایک ہزار روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور پھر جب وہ اس روزے کی قضا کرتا ہے تو اس کے لیے دو ہزار روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔“ ([2])
صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ نفل روزہ بلاعذر توڑ دینا ناجائز ہے، مہمان کے ساتھ اگرمیزبان نہ کھائے گا تو اسے ناگوار ہوگا یا مہمان اگر کھانا نہ کھائے تو میزبان کو اذیت ہوگی تو نفل روزہ توڑ دینے کے لیے یہ عذر ہے، بشرطیکہ یہ بھروسہ ہو کہ اس کی قضا رکھ لے گا اور بشرطیکہ ضحوہ کبریٰ سے پہلے توڑے بعد کو نہیں ۔ زوال کے بعد ماں باپ کی ناراضی کے سبب توڑ سکتا ہے اور اس میں بھی عصر کے قبل تک توڑ سکتا ہے بعد عصر نہیں ۔ ‘‘ ([3])
مدنی گلدستہ
ماہِ ’’ رمضان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مسلمانوں کاآپس میں بھائی چارہ قائم کرنااُمَّت مسلمہ کی دینی ودنیاوی مصلحتوں کاپیش خیمہ ہے۔اپنے دوستوں کی تعظیم وتوقیر کرنا اور ان کی جائز خواہشات کو پوری کرناصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا طرزِعمل ہے، نیز ا س میں اپنے مسلمان بھائی کی دلجوئی بھی ہے جو کہ کارِ ثواب ہے۔
(2) جب مہمان اپنےساتھ کھانےکی خواہش کرے تومیزبان کےلیےنفلی روزہ توڑدینا جائزبلکہ کارِ ثواب ہے کیونکہ یہ حکم شرعی پرعمل ہےنیز بعدمیں روزہ کی قضاء لازم ہے۔
(3) نفل روزہ بلاعذر توڑدینا ناجائز ہے، میزبان کے ساتھ کھانا نہ کھانا مہمان کو ناگوار گزرے گا، یا میزبان کو اذیت ہوگی تو اس عذر کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا جائز ہے جبکہ یہ بھروسہ ہو کہ بعد میں اس کی قضا رکھ لے گا اور یہ توڑنا ضحویٰ کبری سے پہلے ہو۔
(4) بندےپرحقوقُ اللہ کےساتھ ساتھ حقوق ُالعباد بھی لازم ہیں لہٰذاتمام حقوق اداکرنے چاہئیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع