30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں اپنی نمازوں میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:149
عَنْ اَبِيْ جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ الله ِرَضِي َ الله ُ عَنْهُ قَالَ:آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَاَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَسَلْمَانُ اَبَاالدَّرْدَاءِ فَرَاَى اُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ: مَا شَاْنُكِ؟ قَالَتْ: اَخُوْكَ اَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا. فَجَاءَ اَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ لَہُ: کُلْ! فَانِّیْ صَائِمٌ . قَالَ: مَا اَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَاْ كُلَ. فَاَ كَلَ . فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ اَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُوْمُ فقَالَ لَہُ: نَمْ، فَنَامَ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُوْمُ فَقَالَ لَہُ: نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ:قُمِ الْآنَ، فَصَلَّيَا جَمِیْعًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: اِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ اِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِاَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَاَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوجُحَیْفَۃ وہب بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے، حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ ایک دن حضرت سَیِّدُنَاسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکےہاں تشریف لے گئےتو حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پرانے عام سے کپڑوں میں دیکھ کرفرمایا: ’’ یہ کیاحالت ہے؟ ‘‘ کہا : ’’ آپ کے بھائی اَبُو دَرْدَاء کو دنیا کی کچھ حاجت نہیں ۔ پس جب حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآئے تو انہوں نے حضرت سَیِّدُنَا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لیےکھانا تیار کیا اور فرمایا : ’’ کھا ئیے! میں روزے سے ہوں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ جب تک تم نہیں کھاؤ گے میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نےبھی کھایا۔ جب رات ہوئی تو حضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عبادت کے لیے جانے لگے۔فرمایا : ’’ ابھی سوجاؤ۔ ‘‘ تو وہ سو گئے۔کچھ دیر بعدوہ دوبارہ نماز کے لیے جانے لگے توفرمایا: ’’ سوجاؤ۔ ‘‘
پھر جب رات کاآخری حصہ ہوا تو فرمایا: ’’ اب اٹھو۔ ‘‘ چنانچہ دونوں نے اکٹھے نماز ادا کی۔ حضرت سَیِّدُنَاسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ بے شک تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّ کاتم پر حق ہے اور تمہارےنفس کا تم پرحق ہےاور تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے۔ لہٰذا ہر حقدار کو اس کا حق دو۔پھر جب حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ سلمان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے سچ کہا۔ ‘‘
مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ:
دوعالَم کے مالک ومختار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا سلمان او رحضرت سَیِّدُنَا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔اہل سیرت اورمغازی ذکر کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے درمیان دومرتبہ مؤاخات (یعنی بھائی چارہ) قائم ہوا۔پہلاخاص طورپر مہاجرین کے درمیان ہجرت سے قبل ہوایہ ایک دوسرے کی مدداوردین کے حقوق قائم کرنے پر تھا۔اوردوسری مرتبہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہجرت فرما کرمدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے مہاجرین اور انصارکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ ([2])
عبادت میں حدسے زیادہ نہ بڑھنے کی حکمت:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سَیِّدُنَا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عزت و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع