30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَقَالَ:جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. ([1])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے لیے گئے۔جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واپس ہوئے تو وہ بھی دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ آپ کے ہمراہ تھے۔واپسی میں اُن حضرات کو دوپہر کا وقت ایسی وادی میں ہوا جہاں بکثرت کانٹے داردرخت تھے۔سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیام کے اِرادے سے وہاں ٹھہر گئے۔پس صحابۂ کرام درختوں کاسایہ لینے الگ الگ مقامات پر چلے گئے۔حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ایک کانٹے دار درخت کے نیچے تشریف لائے اور اپنی تلواراُس پر لٹکا دی۔ ( راوی کہتے ہیں کہ ) ہم ابھی سوئے ہی تھے کہ اچانک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں بلایا، ہم حاضر خدمت ہوئے تو آپ کے پاس ایک اعرابی تھا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ میں سو رہا تھا کہ اِس نے مجھ پرمیری تلوارتان لی۔میں بیدارہوا تو اِس کے ہاتھ میں ننگی تلوارتھی، اِس نے کہا:آپ کومجھ سے کون بچائے گا؟ میں نےتین بار کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس سے کوئی بدلہ نہ لیا اوروہ بیٹھ گیا ۔
ایک روایت میں حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یوں فرماتے ہیں کہ ہم ’’ غزوۂ ذاتُ الرِّقاع ‘‘ میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے۔ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے تو وہ ہم نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے چھوڑ دیا۔مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی درخت پر لٹکی ہوئی تلواراُتار کرکہنے لگا: ’’ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ اس نےکہا: ’’ تمہیں مجھ سے کون بچائےگا ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘
ابوبکر اِسماعیلی کی جو رِوایت اُن کی صحیح میں ہےاُس روایت میں یوں ہے کہ اس نے کہا : ’’ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ فرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی اُس کے ہاتھ سے تلوارگرگئی، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تلواراُٹھاکر فرمایا: ’’ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو جائیے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں ؟ ‘‘ بولا: ’’ نہیں ۔لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور نہ آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ ‘‘ پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے چھوڑ دیا ۔تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس چلاگیا اور کہا : ’’ میں ایسےشخص کے پا س سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہیں ۔ ‘‘
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک شہنشاہ مدینہ قرار قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شجاعت وبہادری اور توکلِ خالص کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ طاقتور دشمن تلوار لیے سامنےہے اورتنِ تنہا ہونے کے باوجود نہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوفزدہ ہوئے، نہ ہی آپ پر کچھ گھبراہٹ طاری ہوئی۔ آپ کو اپنے ربّ کریم پر کامل بھروسہ تھا کہ وہی حافظ وناصر ہے ۔ربّ تعالٰی فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ- (پ۶، المائدۃ:۶۷)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع