30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا: نمازی کو چاہیے کہ کامل اِرادے اورکامل ذوق سےنمازادا کرے کیونکہ حالت نماز میں بندہ اپنے ربّ کے حضورمناجات کرتا ہے۔پس اُس وقت اُکتاہٹ میں مبتلاہونا درست نہیں ۔ ‘‘ ([1])
کثرتِ عبادت کی ممانعت کن کےلیے ہے؟
شارحِ بخاری حضرت علامہ سَیِّد محمود اَحمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ واضح رہے کہ وہ تمام حدیثیں جن میں کثرتِ عبادت کی ممانعت آئی ہے تو یہ نہی (ممانعت ) صرف ایسے افراد کے لیےہے جو عبادت ورِیاضت میں ایسے مشغول ومعروف ہو جائیں کہ حقوق العباد تک تلف ہوجائیں اور عبادت اُن کے لیےبار ہوجائے۔لیکن وہ لوگ جنہیں کثرتِ عبادت میں دِقّت نہ ہو بلکہ عبادت اُن کی غذا بن جائے تو ایسے اَفراد کے لیے کثرتِ عبادت ممنوع نہیں ہے بلکہ محمودومطلوب ہے۔قرآن مجید میں فرمایا: (كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ (۱۷) ) ( پ۲۶، الذّٰریٰت:۱۷) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ رات میں کم سویا کرتے۔) نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی عبادت ایسی ہوتی تھی کہ آپ کے قدم مبارک مُتَوَرَّم ہوجاتے تھے۔رمضان کے آخری عشرے میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ساری رات عبادت میں گزار دیتے تھے۔حضرت عثمان غنی و حضرت عمر فاوق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) ساری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔غرضیکہ مطلقاً کثرت ِعبادت ممنوع نہیں ہے، بلکہ عبادت میں ایسی کثرت جس کی طاقت نہ ہو او رطبع پر گراں ہو اس کی ممانعت آئی ہے۔حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا ارشادلِیُصَلِّ اَحَدُکُمْ نَشَاطَہُ یعنی جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھے۔جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگرکوئی شخص ساری رات قیام کرسکے اور ساری رات کی عبادت گزاری اس کو دشوارنہ ہوتو اس کی ممانعت نہیں ہے۔ ‘‘ ([2])
بعض صورتوں میں نیند بھی عبادت ہے :
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اگر کھڑے کھڑے نوافل پڑھتے تھک گیاہے توبیٹھ کر پڑھے۔ اس بیٹھنے میں اِنْ شَآءَاللہقیام کا ثواب ملے گا۔ یا اگر نماز نفل سے تھک گیاہے تو کچھ دیرآرام کےلیے بیٹھ جائے۔ اس آرام میں نفل کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ آرام آئندہ نفل کی تیاری کے لیےہے۔جوعادت عبادت کی تیاری کےلیے ہووہ عبادت ہے۔ اس لیے کہا جاتاہےکہ عالِم کی نیند عبادت ہے کہ اس کے ذریعہ وہ بہت سے کام کرے گا۔ ‘‘ ([3])
مدنی گلدستہ
’’ سُنَّت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جب تک دل جمعی باقی رہے، نفلی عبادت کی جائے، جب اکتاہٹ محسوس ہو تو کچھ دیر آرام کر لیا جائے اور پھر دوبارہ نفلی عبادت کی جائے تاکہ رغبت باقی رہے ۔
(2) اگر کوئی کھٹرےکھڑے نوافل پڑھتے تھک گیا ہے تو بیٹھ کر پڑھے، اس بیٹھنے میں قیام کا ثواب ملے گا، اور اگر نماز ہی سے تھک گیا ہے تو کچھ دیر آرام کے لیے بیٹھ جائے، اس آرام میں بھی نفل کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ آرام آئندہ نوافل کی تیاری کے لیے ہے۔
(3) کثرتِ عبادت سے انہیں منع کیا گیا ہے جو اکتاہٹ کاشکارہوجائیں اور جن کے لیے کثرتِ عبادت سکون اور دل جمعی کا باعث ہو اُن کے لیے کثرتِ عبادت کی ممانعت نہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں خشوع وخضوع سے عبادت کرنے کی توفیق عطافرمائے، ہمارا دل اپنی عبادات میں لگادے، ہمیں تنگی اور غفلت اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع