30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ اسلام ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) دین اسلام سب مذاہب سے آسان ہے ۔ اس میں اِفراط وتفریط بالکل نہیں ۔
(2) اِسلام ہمیں قول وفعل میں سیدھی اور ستھری راہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
(3) جو کسی غیر لازم کام کو ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے، اسے پریشانیوں اور اُ کتاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات وہ اُس عمل سے دُور ہو جاتا ہے ۔
(4) لوگوں کو جنت و رحمت الٰہی کی خوشخبری سنا کر اَعمالِ صالحہ کی طرف راغب کرنا چاہیے ۔
(5) میانہ روی اختیار کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتےہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں دین کے اَحکا م پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:146
وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَاِذَا حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ؟ قَالُوْا: هَذَاحَبْلٌ لِزَ يْنَبَ، فَاِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُلُّوْهُ، لِيُصَلِّ اَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَاِذَا فَتَرَ فَلْيَرْ قُدْ. ([1])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِدوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں داخل ہوئےتودو۲ستونوں کےدرمیان ایک رسی بندھی ہوئی دیکھ کر استفسار فرمایا: ’’ یہ رسی کیسی ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی رسی ہے جب وہ (عبادت کرتے کرتے) تھک جاتی ہیں تو اس کے ساتھ سہارا لیتی ہیں ۔ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ اِسے کھول دو!جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھےاور جب تھک جائے تو آرام کرے۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ عبادت میں شدت اِختیارکرنا تھکاوٹ اور اُ کتاہٹ کے خوف کی وجہ سے مکروہ ہے ۔حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ بہترین عمل وہ ہے جسے ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑاہو۔ ‘‘ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اِرشاد فرماتا ہے: ( لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- ) (پ۳ ، البقرہ:۲۸۶) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: اللہکسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اُس کی طاقت بھر) ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ( وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-) (پ۱۷، الحج:۷۸) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔) رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عبادت میں اِفراط ( زیادتی) کوناپسند فرمایاہے تاکہ اکتاہٹ نہ ہو ۔ ‘‘ ([2])
نمازی اپنے ربّ سے مناجات کرتاہے:
عَلَّامَہ شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد قَسْطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھےاور جب تھک جائے تو آرام کرے۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سےہرایک اپنے نشاط کے وقت نمازپڑھے یااُس وقت نماز پڑھےجواُس نماز کے لیے نشاط کاوقت ہےاور بعض نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع