30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّ الدِّیْنَ یُسْر ٌ، وَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنُ اِلَّا غَلَبَہُ، فَسَدِّدُوْاوَقَارِبُوْاوَاَبْشِرُوْا، وَاسْتَعِیْنُوْابِالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَیْءٍ مِّنَ الدُّلْجَۃِ. ([1])
وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ:سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا، وَشَیْء ٌ مِنَ الدُّلْجَۃِ، اَلْقَصْدَ اَلْقَصْدَ تَبْلُغُوْا. ([2])
(قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) قَوْلُہُ: اَلدِّیْنُ ہُوَ مَرْفُوْعٌ عَلَی مَالَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہُ. وَرُوِیَ مَنْصُوْبًا، وَرُوِیَ: لَنْ یُشَادَّ الدِّیْنَ اَحَدٌ. وَقَوْلُہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِلَّا غَلَبَہُ:اَیْ غَلَبَہُ الدِّیْنُ وَعَجَزَ ذٰلِکَ الْمُشَادُّ عَنْ مُقَاوَمَۃِ الدِّیْنِ لِکَثْرَ ۃِ طُرُقِہٖ. وَالْغَدْوَۃُ:سَیْرُ اَوَّلِ النَّھَارِ. وَالرَّوْحَۃُ: آخِرُالنَّہَارِ. وَالدُّلْجَۃُ: آخِرُ الَّیْلِ. وَہٰذَااِسْتِعَارَۃٌ وَتَمْثِیْلٌ. وَمَعْنَاہُ: اِسْتَعِیْنُوْاعَلٰی طَاعَۃِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِالاَعْمَالِ فِیْ وَقْتِ نَشَاطِکُمْ، وَفَرَاغِ قُلُوْبِکُمْ بِحَیْثُ تَسْتَلِذُّوْنَ الْعِبَادَۃَ وَلَا تَسْاَ مُوْنَ، وَتَبْلُغُوْنَ مَقْصُوْدَکُمْ، کَمَا اَنَّ الْمُسَافِرَ الْحَاذِقَ یَسِیْرُ فِی ہٰذِہِ الْلاَوْقَاتِ وَیَسْتَرِیْحُ ہُوَ وَدَابَّتُہُ فِیْ غَیْرِہَا، فَیَصِلُ الْمَقْصُوْدَ بِغَیْرِ تَعَبٍ، وَللّٰہُ اَعْلَمُ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ دین آسان ہے اور جو دین میں سختی اختیار کرتاہے دین اُس پر غالب آجاتاہے۔ پس سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو، خوش رہو، صبح وشام اوررات کے کچھ حصے میں (عبادت کے ذریعے) مددچاہو۔ ‘‘ بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت میں ہے: ’’ سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو صبح وشام اور رات کے کچھ حصے میں (عبادت کے ذریعے) مدد طلب کرو ، میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پا لو گے ۔ ‘‘
(امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :) اَلدِّیْنُ نائب الفاعل ہونےکی بنا پر مرفوع ہے اور منصوب بھی مروی ہے۔ایک روایت میں لَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ اَحَدٌ بھی آیا ہے اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ’’ اِلَّا غَلَبَہُ ‘‘ سے مرادیہ ہے کہ دین اس پر غالب ہوجاتاہے اوریہ شدت اختیار کرنےوالااس کے مقابلے سے عاجزآجاتاہے، کیونکہ دین کے راستے بہت زیادہ ہیں ۔اَلْغَدْوَۃُصبح کی سیر، اَلرَّوْحَۃُ دن کے آخری حصے اوراَلدُّلْجَۃُ رات کے آخری حصے کو کہتے ہیں ۔ یہ اِستعارہ اور تمثیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جب تم نشاط محسوس کرواورتمہارےدل فارغ ہوں توایسےاَوقات میں نیک اَعمال کے ذریعے اللہعَزَّ وَجَلَّکی اِطاعت پر مددطلب کروتاکہ تمہیں عبادت کی لذت حاصل ہواور اُ کتاہٹ کے بغیر تم اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ۔ جیساکہ تجربہ کارمسافر انہی اوقات میں سفر کرتاہے اور دیگر ا وقات میں خود بھی آرام کرتا ہے اور اپنی سواری کو بھی آرام پہنچاتا ہےاور یوں وہ بغیر تھکاوٹ کے منزل مقصود تک پہنچ جاتاہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ ([3])
اُمَّت محمدیہ کے لیے آسانیاں :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ دین آسان ہے۔ یعنی دین اسلام پچھلے تمام اَدیان سے آسان ہے۔ اس لیےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس اُمَّت سے ان تمام تنگیوں کو دور کردیا جو پہلی اُمَّتُوں پر تھیں ۔جیساکہ وہ مٹی سے ( تیمم کے ذریعے) طہارت حاصل نہیں کرسکتے تھے ، کپڑے پرجس جگہ نجاست لگ جاتی اسے کاٹنا پڑتا تھا ، توبہ کے قبول ہونے کےلیے اپنے آپ کو قتل کرنا پڑتا تھااور اس جیسی دیگر سختیا ں بھی تھیں ۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے لطف و کرم سے اس اُمَّت پر رحم فرماتے ہوئے اُن تمام سختیوں کو دُور فرما دیا۔ اللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے: ( وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ- ) (پ۱۷، الحج:۷۸) (ترجمہ ٔ کنز الایمان:اور تم پردین میں کچھ تنگی نہ رکھی) ۔ ‘‘ ([4])
میانہ روی منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہے :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ علامہ کرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی الفاظ ِحدیث کے مطالب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ سیدھی راہ چلو۔یعنی قول وفعل میں سیدھی راہ پر رہو ، میانہ روی اختیار کرو۔یعنی تم نفلی عبادات میں ( اپنی جانوں پر) اتنی سختی نہ کروکہ اکتا ہٹ کاشکارہوکرنیک اعمال سے دور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع