30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبادت کرتے ہوں گے۔ لیکن جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے بارے میں سنا تو وہ اُن کے اندازے سے کم تھی تو انہوں نے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئےاُس کی نسبت کمی کی طرف نہ کی بلکہ اسے حضور کا کمال سمجھااور حضور کے مقابلے میں اپنے آپ کو ملامت کی۔ اس حدیث میں مرید کے لیے سبق ہے
کہ وہ اپنے شیخ کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اگر اُن کی عبادت میں کمی پائے تواپنی طرف سے کوئی عذر بیان کرے اور اگر اپنے نفس کو شیخ پر اِنکار کرتا ہوا پائے تو اسے سمجھائے کیونکہ جو اپنے شیخ پر اعتراض کرے وہ کبھی فلاح نہیں پاتا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کم عبادت کرنا اُمَّت پر رحم اور شفقت کرنے کے سبب تھاتاکہ وہ مشقت میں نہ پڑیں کیونکہ انسان کے اپنی جان پر حقوق ہیں اور اہل وعیا ل کے حقوق ہیں ۔اسی لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انسان کو کھانے کا محتاج بنایا ہے تاکہ عبادت پر قوت حاصل ہو اورمَردوں کے لیے عورتوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ نسلِ انسانی باقی رہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں میں اضافہ ہو اور اپنے دین کو محفوظ کرے، ان (بیویوں ) پر خرچ کرے تاکہ اس پر اسے اجر دیا جائے۔ ‘‘ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ فَیْضَانِ عَطَّار ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) میانہ روی اِستقامت کی کنجی ہے۔
(2) قرآن وحدیث کاعلم حاصل کرنے کےساتھ بزگانِ دین کےاَحوال سےبھی واقف ہوناچاہیے کیونکہ اُن کی سیرت کی روشنی میں قرآن وحدیث پرعمل کرنا کامیابی کی علامت ہے۔
(3) کثرت سےنعمتوں کا اِستعمال بھی غفلت کاسبب ہے اِس لیے اعتدال سے کام لیناچاہیے۔
(4) انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی عاقبت کےخوف سے نہیں اَحکام الٰہی کی بجا آوری اور شکر ادا کرنے کے لیے عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ گناہوں سےپاک ہیں اور ان کی عاقبت اچھی ہی اچھی ہے بلکہ انہی کے صدقے دوسروں کا انجام اچھا ہو گا ۔
(5) اگربزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کےاعمال میں بظاہر کمی محسوس ہو تو اس کمی کی نسبت ان کی طرف نہ کی جائے بلکہ اچھا گمان رکھا جائے۔
(6) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت اوراُس کےشکرمیں کی جانے والی عبادت، عاقبت کےخوف سے کی جانے والی عبادت سےافضل ہے۔
(7) قرآن وحدیث کاعلم حاصل کرنا چاہیے تاکہ اُس کی روشنی میں صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے جنت تک پہنچ جائیں ۔
(8) اپنی غِذاورآرام کا بھی خیال رکھنا چاہیے تاکہ عبادتِ الٰہی پر قوت حاصل ہو۔
(9) اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ حتی الامکان لوگوں کے شُبہات دُور کیے جائیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں ہرمعاملے میں اعتدال اورمیانہ روی سےکام لینےکی توفیق عطا فرمائے اورسنت کےمطابق زندگی گزارنے کی سعادت عطافرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:144
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ قَالَہَا ثَلَاثًا. ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع