30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے بارے میں بتایا گیاتو گویا وہ اُسے کم سمجھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اعتقادتھاکہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت کثرت سےعبادت کرتے ہیں اورصحابۂ کرام اپنی رائے میں عبادت میں کثرت اور اپنی جانوں پر سختی کرنے ہی کوکامل عبادت گمان کیاکرتےتھے۔لیکن جب انہیں حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے بارے میں کمی کا گمان ہواتواس کی وجہ خود ہی بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معصوم ہستی پرقیاس نہیں کرسکتے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اپنےربّ کے ساتھ قربتِ خاص کاجومعاملہ ہے ہم اس سے خالی ہیں ۔اس لیے بارگاہِ الٰہی میں ہماری اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کا معاملہ جدا ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عظمت تو یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے صدقے آپ کے اگلوں ، پچھلوں کے گناہ بخش دیے ہیں ۔ ‘‘ ([1])
علم و معرفت والے ہی اللہسےڈرتے ہیں :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے ایساایساکہاہے؟ ‘‘ پھر ان کے جواب کاانتظار کیے بغیر بیانِ حق میں جلدی کرتے ہوئےفوراً قسم کے ساتھ ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !میں تم سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا ہوں ۔کیونکہ خوف علم کے تابع ہے (یعنی جتنا علم زیادہ اتناخوف زیادہ) ۔جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمان ہے: ( اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-) (پ۲۲، فاطر:۲۸) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔) یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کا علم و معرفت رکھنے والے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہیں اوررحمت عالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ساری مخلوق سے بڑھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھتے ہیں لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمساری مخلوق سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والے ہیں ۔حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ تقوے والا ہوں ۔یعنی گویاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے فرمایا: ’’ جب میں سب سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہوں اورسب سے بڑا متقی ہوں تو پھرتم یہ کیسے سمجھ سکتے ہو کہ میں اطاعت و عبادت میں کم ہوں ؟ ‘‘ ([2])
حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے نفلی روزے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”میں (نفلی) روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ تا بھی ہوں ۔“یعنی جب میرے لیے یہ بات ظاہر ہوجائے کہ بغیرکسی تکلف کے روزہ رکھ لوں تورکھ لیتاہوں ۔جیسا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اہل میں سے کسی کے پاس تشریف لے جاتے اور استفسار فرماتے: ’’ کیا آج تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ ‘‘ اگر وہ کہتے: ’’ نہیں ۔ ‘‘ تو ارشاد فرماتے: ’’ میں روزہ سے ہوں ۔ ‘‘ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم دیاکہ آپ یوں فرمائیں : (وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ (۸۶) ) (پ۲۳، ص:۸۶) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور میں بناوٹ والوں میں نہیں ) اور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں روزے چھوڑتا بھی ہوں ۔ ‘‘ آپ کے روزہ چھوڑنے کامعاملہ بھی ایساہی تھا ۔ ([3]) (یعنی نفلی روزہ رکھنے میں تکلف ظاہر ہوتا تو روزہ نہ رکھتے ۔)
مُرید کے لیے اِحتیاط:
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیث پاک کے الفاظ: ” گویاصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کو کم جانا“ کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا گمان تھا کہ حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت زیادہ وظائف و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع