30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی زندگی میں فنا کرچکے۔) لیکن حق بات یہ ہےکہ یہ آیت کفارکے بارے میں نازل ہوئی ہےاور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےدونوں اُمور (نرمی ا ورسختی) پر عمل کیا ہے۔ حق یہ ہے کہ دُنیاوی لذتوں پر ہمیشگی اختیارکرنا عیش و عشرت اور تکبر کی طرف لے جاتا ہے اور ایساشخص شُبہات میں پڑنے سے نہیں بچ سکتا کیونکہ جوعیش وعشر ت کاعادی ہو اگراسےکبھی مطلوبہ اشیاء میسر نہ ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اُن کے بغیر نہ رہ سکےاور کسی گناہ میں مبتلاہوجائے اور اسی طرح کبھی دنیاوی مباح لذتوں سے روکنا غلو کی طرف لے جاتاہے اوراس کی ممانعت ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہعَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے: ( قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ- ) (پ۸، لاعراف:۳۲) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم فرماؤ (اے نبی!) کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق۔) اسی طرح عبادت میں شدت اختیار کرنا ایسے ملال کی طرف لے جاتا ہےجواصل عبادت اور فرائض میں میانہ روی کو ختم کر نے کا سبب ہے۔اورنفلی عبادت کو چھوڑنےسے عبادت میں نشاط ختم ہوجاتاہے۔ الغرض بہترین اُموروہ ہیں جن میں میانہ روی اختیار کی جائے ۔ ‘‘ ([1])
خوفِ الٰہی کثیر عبادت سے افضل:
علامہ شہاب الدین احمد قسطلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام مخلوق سے زیادہ عبادت کرنے کی طا قت دی گئی تھی لیکن آپ کا مقصد شریعت سازی اور اُمَّت کوایسے طریقے کی تعلیم دینا تھا جس سے عبادت کرنے والاملال اور اکتاہٹ کا شکارنہ ہو۔حضرت سَیِّدُنَا علامہ ابن مُنیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتے ہیں :صحابٔہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان یہ سمجھے کہ خوف ہی عبادت پر اُبھارتا ہے اور عبادت عذابِ آخرت کے خوف پرمنحصر ہےاور انہیں معلوم تھا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممغفرت یافتہ ہیں ، تو انہوں نے آپ کی عبادت کی کم مقدار کو اس پر محمول کیا کہ آپ کو زیادہ عبادت کی ضرورت نہیں ۔ پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے اِس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال کا خوف، اُس کثیر عبادت سے افضل وعظیم ہے جو منقطع ہونے والی ہے کیونکہ دائمی عمل اگرچہ تھوڑا ہو اُس کثیر عمل سے بہتر ہے جو منقطع ہوجائے۔ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام یہ ہے کہ آپ عبادت ِالٰہی بطورِ شکر کرتے ہیں ، عاقبت کے خوف سے نہیں کیو نکہ آپ گناہو ں سے محفوظ ہیں ۔ ‘‘ ([2])
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَال فرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور میں عبادت میں ائمہ کرام کی اقتداء کرنے، اُن کے احوال اور اُن کے شب وروز گزارنے کے طریقے میں غور وفکر کرنے کا ذکر ہے کہ جن ائمہ کرام کو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دین اور عبادات کے معاملے میں مقتدا بنایا ہے ان کے طریقے سے تجاوز نہیں کر نا چاہیے۔جو اُن کے طریقےسے آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو وہ حد سے بڑھنے والا ہےاور عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا بہتر ہے تاکہ عمل سے عاجز نہ آئے اور عبادت بھی منقطع نہ ہو۔حضور اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عافیت نشان ہے کہ بہترین عمل وہ ہے جسے کرنے والا ہمیشہ کرے اگر چہ تھوڑا ہو ۔ ‘‘ ([3])
حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا بارگاہ ِالٰہی میں قُربِ خاص:
عَارِف باللّٰہ حضرت علامہ عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس زائد عبادت کی کیفیت کےبارے میں دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے جوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے گھر پر دن یارات میں بجالاتے تھے اورصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کواس کاعلم نہ تھاکیونکہ غالب طورپرانسان کے پوشیدہ معاملات پراس کی زوجہ سے زیادہ کوئی اور مطلع نہیں ہوتا۔اسی لیےصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ جب انہیں آپ صَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع