30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ تین صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کون تھے ؟
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ ان تین صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسما ئے گرامی یہ ہیں : (1) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْم (2) حضرت سَیِّدُنَا عُثمان بن مَظْعُون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور (3) حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن رَوَاحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ اور ایک قول کے مطابق حضرت سَیِّدُنَا مِقداد بن اَسْوَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:بے شک!میں تم سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا اورتم سب سے زیادہ متقی ہوں ۔یعنی جو عبادت میں بہت زیادہ شدت کرتے ہیں میں ان سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں کیونکہ بسا اوقات شدت کے ساتھ عبادت کرنے کی وجہ سے انسان اُ کتاہٹ وتھکاوٹ میں مبتلا ہوجاتا ہےبرخلاف اس کے جومیانہ روی سےعبادت کرےکیونکہ اس طرح وہ ہمیشہ عبادت کرسکتا ہےاور بہترین عمل بھی وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے ۔ ‘‘ ([2])
جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں :
حدیث مذکور میں ہے کہ جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے طریقے کو چھوڑکر میرے غیرکے طریقے کو اختیار کیا تو وہ مجھ سے نہیں ۔ اس ارشاد میں آپ نے رہبانیت کے رد کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، کیونکہ عیسائی راہبوں نے اپنی طرف سے دین میں شدت ایجاد کی، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ مجید میں ان کی مذمت بیان کی کہ جس چیز کو انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا تھا اُسے پورا نہ کر سکےاورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا طریقہ معتدل ہونے کے ساتھ نرمی وآسانی والابھی ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (نفلی ) روزے مسلسل نہ رکھتے، بلکہ کبھی رکھتے کبھی چھوڑ دیتے تاکہ آئندہ روزے رکھنے پر طاقت حاصل ہو۔ رات کو کچھ دیر آرام بھی فرماتے تاکہ رات کے قیام پر قوت حاصل ہو اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کئی حکمتوں کے پیشِ نظر نکاح بھی فرمایا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان”وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی تاویل سے میرے طریقے کو چھوڑا تو وہ میرے طریقۂ محمودہ پرنہیں ہے اور اگر اس بناپرچھوڑاکہ وہ اپنےعمل کوزیادہ راجح سمجھتاہےتو وہ میری ملت پر نہیں ہے کیونکہ اُس کا یہ اِعتقاد کفر ہے۔ ‘‘ ([3])
حدیثِ پاک سےثابت ہونے والے اَحکام:
(1) حدیثِ مذکور میں نکاح کی فضیلت اوراس کی ترغیب کا بیان ہے۔ (2) اپنے اکابرین کے احوال کی خبر رکھنی چاہیے تاکہ اُن کی اِتباع کی جاسکے۔اگرخو د اُن سے معلوم نہ ہو سکے تو اُن کے متعلقین سے پوچھ لیناچاہیے۔ (3) اگرریاکاری کا اندیشہ نہ ہو تو اپنے اچھے اعمال بیان کرنا جا ئز ہے۔ (4) لوگوں کو مسائل کی تعلیم دینے مکلفین کے اَحکام بیان کرنے اور لوگوں کے شبہات زائل کرنے سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد و ثنا کرنی چاہیے۔ (5) مباح کام حسنِ نیت سے مستحب ہوجاتا ہے اور کبھی حسن نیت کے بغیر مکروہ ہوجاتا ہے۔ (6) امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :اس حدیث میں اُن زاہدین کا رد ہے جو اچھے کھانوں اور اچھے لباس سے منع کرتے ہوئے موٹے کپڑے پہنتے اور سخت غذا کھاتے ہیں ۔ (7) حضرت سَیِّدُنَاقاضی عیا ض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : اس میں سلف وصالحین کے احوال مختلف ہیں ، اِن میں سے بعض کا وہی نظریہ ہے جس کی طرف امام طبری (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے اشارہ کیا ہےاور بعض نےاس کےبرخلاف کہا ہے، ان کی دلیل اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان ہے: (اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا ) (پ۲۶، الاحقاف:۲۰) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع