30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے۔یہ حدیث نماز ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام نیک اَعمال کو شامل ہے۔محققین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ ا لسَّلام ُ فرماتے ہیں :معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے اکتانے والے شخص جیسا معاملہ نہیں کرتا کہ تم سےعمل کا ثواب وجزا ختم کر دے، یہاں تک کہ تم عمل کرنا چھوڑ دو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ ‘‘ ([1])
حضرت سیِّدُنا جابربن عبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کے پاس سے گزرے جو مکہ مکرمہ میں ایک چٹان پرنماز پڑھ رہاتھا ۔ واپسی پر بھی اسے اسی حالت میں پایا تو ارشادفرمایا: ’’ اے لوگو! تم پرمیانہ روی لازم ہے، اےلوگو! تم پر میانہ رَوِی لازم ہے، ا ے لوگو!تم پرمیانہ روی لازم ہے۔بے شک !اللہ عَزَّ وَجَلَّ (اجرعطافرمانے سے) نہیں اکتاتابلکہ تم (عبادت سے ) اُ کتا جاتے ہو۔ ‘‘ ([2])
ربّ تعالٰی ملال سے پاک ہے:
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ یہ بات پسندیدہ نہیں کہ نوافل بکثرت پڑھنا شروع کردیا جائے پھر چھوڑ دیاجائے۔ بہت زیادہ پسندیدہ وہ کام ہے جو آدمی پابندی کے ساتھ بلاناغہ ہمیشہ کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو ۔یہ مت وہم کرو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانے میں کوئی کمی ہے یا وہ اعمال کا ثواب دیتے دیتے تھک سکتا ہے، یا گھبراسکتا ہےوہ ملال سے مُنَزّہ (یعنی پاک ) ہے۔ تم جتنا زیادہ عمل کروگے اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) اس کا تم کو ثواب دے گا۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نوافل ومستحبات پر بھی پابندی اور مداومت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پسند ہے، اس لیے میلاد مع قیام، فاتحہ، عرس وغیرہ اُمورِ خیراگر کوئی بِلا ناغہ پابندی سے کرتاہے تویہ پابندی اسے ناجائزوحرام نہیں کردےگی بلکہ یہ مزید پسندیدگی کی باعث ہوگی۔ ‘‘ ([3])
شارحِ بخاری علامہ سیدمحمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ مطلبِ حدیث یہ ہے کہ آدمی خواہ کتنی ہی نیکیاں کرے، ربّ العزت جَلَّ مَجْدُہُ کو اس کی ان نیکیوں کے ثواب عطافرمانے میں کوئی دِقّت نہ ہوگی مگر اپنی طاقت سے زیادہ عمل کرنے والا بالآخر خود ہی گھبرا جائے گااوراس کو جاری نہ رکھ سکے گا۔مفہوم حدیث یہ ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ عبادت میں میانہ روی اختیار کرے اور اتنا ہی عمل کرے جس کو آسانی کے ساتھ ہمیشہ کرسکے کیونکہ تھوڑا عمل جو ہمیشہ کیا جائے وہ ا س عمل سے بہتر ہے جو انسان ہمیشہ نہ کرسکے کیونکہ زیادہ کے لالچ میں تھوڑے کو بھی چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گا۔اسی کو امام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مثال دے کر یوں سمجھایا ہے کہ جب پتھر پر پانی قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے تو سوراخ کردیتا ہےبر خلاف یکدم اگر پانی گرجائے تو اثر تک بھی نہیں ہوتا۔ ‘‘ ([4])
مُفَسِّرِشَہِیْر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمفتی اَحمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ یہ تمام کلام نفلی عبادات کے لیے ہے کہ بقدر ِطاقت شروع کرو جو نِبھا سکو، فرائض تو پورے ہی پڑھنے ہوں گے ۔لہٰذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر دو وقت کی نماز ہی پڑھ سکو تو اتنی ہی پڑھ لیا کرو۔ لہٰذا حدیث صاف ہے۔ واجبات و سنن ، فرائض کے تابع ہیں اُن کی پابندی لازم ہے ۔یعنی اگر تم خود ملال و مشقت والے کاموں کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ روزانہ سو رکعت پڑھنے یا ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مان لو تو تم پر یہ چیزیں واجب ہوجائیں گی پھر تم مشقت میں پڑ جاؤ گے، مگر یہ مشقت ربّ نے نہ ڈالی تم نے خود اپنے پر ڈالی۔ یہ معنی نہیں کہ ﷲ ملال میں نہیں پڑتا حتی کہ تم ملال میں پڑو، ربّ تعالٰی ملال کرنے سے پاک ہے۔یہ حدیث دین ودنیاکےمشاغل کوشامل ہے، درمیانی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع