30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْہَا نے عرض کی: ’’ یہ فلاں عورت ہے۔ ‘‘ اور پھر اُس کی نماز کا ذکر کیا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ رُک جاؤ! تم پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق عبادت کرو۔بخدا! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نہیں اُ کتاتا، تم اُ کتا جاؤ گے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کو وہ عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے کرنے والاہمیشہ کرے۔ ‘‘
علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی الفاظ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”مَہْ “یہ نہی اور زجر کے لیے آتا ہے۔ ’’ لَا یَمَلُّ اللہ:یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ نہیں اُ کتاتا۔ ‘‘ اس کا مطلب ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے تمہارے اَعمال کا ثواب ختم نہیں کرتااور نہ ہی تمہارے اَعمال کی جزا منقطع کرتاہےاور وہ تم سےاُ کتاہٹ والا معاملہ نہیں فرمائے گا، تم اُ کتا کر عمل چھوڑدوگے۔ لہٰذا تمہارے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ عمل کرو جسے ہمیشہ کر سکو تاکہ اُس کا ثواب اور فضیلت تمہارے لیے ہمیشہ رہے۔ ‘‘
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اُمَّت پر شفقت:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتےہیں :حضرت سَیِّدُنَا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق فرماتے ہیں : ’’ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتایا گیا کہ یہ عورت ساری ساری رات عبادت کرتی ہے سوتی نہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےناپسندیدگی کااظہارفرمایا یہاں تک چہرۂ اَنور پر اس کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ ان خاتون کا نام حضرت سَیِّدَتُنَا حولاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاتھا۔ یہ بہت عبادت گزار اور مُہَاجِرہ صحابیہ تھیں ۔ ‘‘ ([1])
اُکتاہٹ کا اطلاق ذات باری تعالی پرجائز نہیں :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتےہیں : ’’ مَلال ( اُ کتاہٹ ) کااطلاق اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرجائز نہیں اور نہ ہی یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات میں داخل ہے کیونکہ ملال کا معنی ہے:کسی چیزکی چاہت اورحرص کے باوجود اس کے مشکل ہونے کی وجہ سے اسے نہ چاہتے ہوئے چھوڑدینااوریہ مخلوق کی صفت ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نہیں ۔حدیث مذکورمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرملال کا اطلاق مجازًا ہے۔ ‘‘ ([2])
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَال فرماتے ہیں : ’’ اس سےمراد یہ ہے کہ تم لوگ نیک اَعمال کر کے اُ کتا جاؤ گےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اجر عطا فرماتے ہوئے نہیں اُ کتائے گا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا اِبن فُورَکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ اُ کتانا تمہاری صفت ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نہیں ، کیونکہ اکتاہٹ، طبیعت کی تبدیلی کا نام ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے پاک ہے۔ ‘‘ حضرت سیِّدُناعلامہ خطّابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں : ’’ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس وقت تک ثواب دینا ترک نہیں کرتا جب تک تم عمل کرنا نہ چھوڑدو۔ ‘‘ ([3])
شارحین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس حدیث سے کئی اہم مسائل بھی اخذ فرمائے ہیں ، چند مسائل یہ ہیں : (1) بغیر طلب قسم کھانا بِلاکراہت جائز ہے جبکہ معاملے کو پختہ کرنے ، کسی کونیکی پر اُبھارنے یا ممنوعہ چیزوں سے نفرت دلانےکے لیے ہو۔ (2) قلیل دائمی عمل کثیر عارضی عمل سے بہتر ہے ۔ (3) حدیثِ مذکور میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اپنی اُمَّت پر شفقت ونرمی کا بیان ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرماتے تھے جو ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی تھی۔ ([4])
نیک اَعمال میں میانہ روی کی ترغیب:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اورتنگی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع