30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ برائی سے رُک جانا صدقہ ہے۔اس سے مرادیہ ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر برائی سے بچے تو اس کے لیے ایسا ہی اجر ہے جیسا مال صدقہ کرنے والے کے لیے ہوتا ہے۔ ‘‘ ([1])
حلال و جائز کاموں میں مصروفیت:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ (اگرصدقےکے لیے کوئی چیز میسر نہ آئے تو؟ ) صحابۂ کرام یہاں صدقہ سے مالی خیرات سمجھے تھے، اس لیے اُنہیں یہ اِشکال پیش آیا کہ بعض مسلمان مسکین مفلوکُ الْحال ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے کھانے کونہیں ہوتاوہ صدقہ کہاں سے کریں ؟ (فرمایا:اپنے ہاتھ سے کام کرے پھر خودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کرے) سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ مال کمانا بھی عبادت ہے کہ اس کی برکت سے انسان ہزار ہا گناہوں سے بچ جاتا ہے۔جیسے بھیک، چوری وغیرہ۔ نیز نِکمّا آدمی اپنا وقت گناہوں میں خرچ کرنے لگتا ہے۔نفس کو حلال کاموں میں لگائے رہوتاکہ تمہیں حرام میں نہ پھنسادے۔ (برائی سے بچے یہ بھی صدقہ ہے) بُرائی سے بچنے کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ فساد کے زمانہ میں گھر میں گوشہ نشین بن جائے کہ نماز کے اوقات مسجد میں باقی گھر یا جنگل میں گزارے۔ دوسرے یہ کہ بُری مجلسوں میں جائے مگر بُرائی کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کو بُرائی سے روکنے کے لیے کہ یہ بڑا جہاد ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوا کہ جیسے نیکیاں نہ کرنا گناہ ہے، ایسے ہی گناہ نہ کرنا ثواب۔ نہ کرنے سے مراد بچنا ہے یعنی سلبِ عدولی نہ کہ سلبِ محض۔ لہٰذا حدیث پر یہ اِعتراض نہیں کہ ہم ہر وقت خصوصاً سونے کی حالت میں لاکھوں گناہوں سے بچے رہتے ہیں ، توچاہیے کہ ہمیں ہر سانس میں کروڑوں نیکیاں ملا کریں ، ربّ تعالٰی فرماتاہے: ( وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ (۴۰) ) (پ۳۰، النٰزعٰت:۴۰) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔) یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔ ‘‘ ([2])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ مصیبت زدہ کی مددکرے۔ اس سے مراد وہ شخص ہےجواپنےکسی معاملے میں رنجیدہ وپریشان ہو، یاکمزورومظلوم مدد مانگ رہاہوتوچاہیے کہ اپنے عمل، مال یا منصب کےذریعےاس کی مدد کرے یا اسے مددگارتک پہنچا دے یا نصیحت کر دے یا دعا کے ذریعےمددکرےاوراگریہ نہ کرسکےتوبھلائی کاحکم دےاوربرائی سے منع کرےیاکسی کوعلمی فائدہ پہنچا دے اور علمی نصیحت کردے۔ ‘‘ ([3])
صَدَقہ کی برکت سے جان بچ گئی :
منقول ہےکہ حضرت سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا ایک جھگڑالوشخص لوگو ں کو بہت تنگ کیا کرتا تھا۔لوگوں نے تنگ آکر حضرت سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اس کی شکایت کی اور چھٹکارے کی درخواست کی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ جاؤ! اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ تمہیں اس کے شَر سے خلاصی مل جائے گی ۔ ‘‘ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے۔ وہ جھگڑالوشخص جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کیا کرتا تھا۔حسب ِمعمول وہ جنگل گیا ، اس کے پاس دو روٹیاں تھیں ایک خود کھالی اور دوسری صدقہ کردی۔ پھر لکڑیاں کاٹ کر واپس گھر چلا آیا ۔ لوگو ں نے جب اسے صحیح وسلامت دیکھا تو حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت میں عرض کی کہ ابھی تک ہمیں اس سے چھٹکارا نہیں ملا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے اسےبلا کر فرمایا: ’’ اے نوجوان! آج تو نے کون سا نیک کام کیا ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’ میں نے ایک روٹی صدقہ کی ہےاس کے علاوہ تو کوئی اورنیک کام مجھے یاد نہیں ۔ ‘‘ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ اپنالکڑیوں کا گٹھا کھولو۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع