30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) کھانا کھاتے وقت محفل کے آداب ملحوظ رکھنے چاہئیں ، ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب تک دوسرے ساتھی کھانا نہ کھا لیں بلند آواز سے حمد نہیں کرنی چاہیے۔
(2) بزرگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے کہ ان کی صحبت میں بہت ساری دُنیوی واُخروی بھلائیاں ملتی ہیں ، بہت سی سنتیں اور آداب سیکھنے کو ملتے ہیں ۔
(3) کھانے سے قبل اچھی اچھی نیتیں کرلیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں زوالِ نعمت سےبچائےاورہرنعمت پراپنی حمدوثنابیان کرنےکی توفیق عطافرمائے، سنت کے مطابق کھانا کھانے کی توفیق عطا فرمائے، دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:141
عَنۡ اَبِی مُوۡسٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ. قَالَ: اَرَاَيْتَ اِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ. قَالَ: اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِيۡنُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوۡفَ. قَالَ: اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يَاۡمُرُ بِالْمَعْرُوفِ اَوِالْخَيْرِ.قَالَ اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَاِ نَّهَا صَدَقَةٌ. ([1])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کیا فرماتے ہیں ، اگر اسے (صدقہ کے لیے کوئی شے) میسر نہ آئے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ سے کام کرے پھر خودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کرے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ضرورت مند، مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کی کیا رائے ہے اگراس کی بھی طاقت نہ ہو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔ ‘‘ عرض کیا: ’’ اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ ‘‘ فرمایا : ’’ بُرائی سے بچے کہ یہ بھی صدقہ ہے۔ ‘‘
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکورمیں تنگدست مسلمان کے لیے اس بات پر تنبیہ ہے کہ کسی پر بوجھ نہ بنے، بلکہ اپنے ہاتھ سے کام کاج کر کے اپنے آپ پر خرچ کرے اور اسے صدقہ سمجھے۔امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:اے قاریوں کی جماعت! اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر چلو، اپنے سروں کو بلند رکھواورمسلمانوں پر بوجھ نہ بنو۔ ‘‘ ([2])
حدیثِ مذکورمیں اس بات پربھی تنبیہ ہے کہ ’’ مؤمن جب کسی نیکی پر قدرت نہ پائےتو کوئی ایسی نیکی کر لے جس پر اُسے قدرت ہو کیونکہ نیکیوں اوربھلائیوں کے دَروازےبہت زیادہ ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے راستے بھی بے شمار ہیں ۔ ‘‘ ([3])
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ تنگدست و محتاج کوچاہیے کہ محنت مزدوری کرے، اس سے جواُجرت حاصل ہواپنی ضروریات کھانے، پینے، اُوڑھنے، پہننے وغیرہ میں استعمال کرے تاکہ کسی سے مانگنےکی حاجت نہ رہےاوراپنےاوپرخرچ کرکے صدقے کا ثواب پائے۔ ‘‘ ([4])
[1] مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع ۔۔۔الخ،ص ۵۰۴، حدیث: ۱۰۰۸ماخوذا۔
[2] عمدۃ القاری، کتاب البروالصلۃ، باب کل معروف صدقۃ، ۱۵ / ۱۸۵، تحت الحدیث: ۶۰۲۲۔
[3] عمدۃ القاری، کتاب البروالصلۃ، باب کل معروف صدقۃ، ۱۵ / ۱۸۵، تحت الحدیث: ۶۰۲۲۔
[4] دلیل الفالحین ،باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر،۱ / ۳۸۲،تحت الحدیث: ۱۴۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع