30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی جو شخص اپنی زبان کو فضول اور لغو باتوں سے بچانے میں کامیاب ہوگیا یقینا ًاس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، اس نے سلامتی اور بھلائی کو پالیا ۔ اپنی زبان کو فضول اور لایعنی باتوں سے روکنا شیطان کے خلاف بہت بڑا ہتھیار ہے، جو اس ہتھیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے۔ مگر افسوس! آج ہماری اکثریت فضول باتوں میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرنے میں مصروفِ عمل نظر آتی ہے، زبان کی سلامتی سے پورا جسم سلامت رہتا ہے، بندہ جب صبح کو اٹھتا ہے تو جسم کے تمام اعضاء زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر آج کے دن تو صحیح رہی تو ہم سب بھی صحیح رہیں گے۔ کاش! ہم سب بھی زبان کا قفلِ مدینہ لگانے والے بن جائیں یعنی اپنی زبان سے فضول اور لغو کلام کرنے کی بجائے، اچھی بات اور ذکر اللہ کرنے والے بن جائیں ، یقیناً اس میں دنیا وآخرت دونوں کی بے شمار بھلائیاں پوشیدہ ہیں ۔
اللہ ہمیں کر دے عطا قفل مدینہ……… ہر ایک مسلماں لے لگا قفل مدینہ
یاربّ نہ ضرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں ……… اللہ زباں کا ہو عطا قفل مدینہ
بولوں نہ فضول اور رہیں نیچی نگاہیں ………آنکھوں کا زباں کا دے خدا قفل مدینہ
رفتار کا گفتار کا کردار کا دے دے ……… ہر عضو کا دے مجھ کو خدا قفل مدینہ
دوزخ کی کہاں تاب ہے کمزور بدن میں ………ہر عضو کا عطار لگا قفل مدینہ
مدنی گلدستہ
’’ کعبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اَعمالِ صالحہ اورصدقات وخیرات کی برکت سے اِنسان جہنم کی آگ سے آزاد ی حاصل کر لیتا ہے ۔
(2) اگر کوئی صدقہ وخیرات کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو چاہیے کہ اچھی گفتگو کرے کہ یہ بھی اس کےلیے صدقہ ہے ۔
(3) جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔
(4) آدمی کو اپنی زبان احتیاط سے استعمال کرنی چاہیے کیونکہ اکثر خطائیں زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں صدقہ وخیرات کرنے، نیک اعمال خود بھی کرنے اور دوسروں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:140
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللَّهَ لَيَرْضٰى عَنِ الْعَبْدِ اَنْ يَاْكُلَ الْاَ كْلَةَ فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا اَ وْيَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا. ([1])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہےجو کھانا کھا کراس کی حمد کرے یا پانی پی کر اس کی حمد کرے۔ ‘‘
[1] مسلم، کتاب الذکر والدعا والتوبۃ، باب استحباب حمد اللہ تعالی بعد الاکل والشرب، ص۱۴۶۳، حدیث: ۲۷۳۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع