30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَجَلَّ بذات خود بغیر کسی واسطے کے لوگوں سے کلام فرمائے گا ۔بندہ دائیں جانب اپنے وہی نیک اَعمال دیکھے گاجو دنیا میں کر چکا ہے اوربائیں جانب اپنے وہ تمام بُرے اعمال دیکھےگاجودنیا میں کر چکاہے۔ (پس اے لوگو!) اعمالِ صالحہ کوجہنم سےچھٹکارے کا ذریعہ بناؤ، اگر صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نہ پاؤ تواچھی بات کہہ کر کسی مسلمان کا دل خوش کرواورآگ سے نجات پاؤ۔ ‘‘ ([1])
مرقاۃالمفاتیح میں ہے: ’’ اچھی بات کے ذریعے جہنم کی آ گ سے بچو۔اس سے مراد یہ ہے کہ ذکرو دعا کرو یاسائل سے اچھی بات کہو، وعدہ پورا کرو، یااچھی اُمید کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرو۔ ‘‘ ([2])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کلام فرمانا:
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ حضرت عدی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) صحابی ہیں ۔یہ حاتم کے بیٹے ہیں ۔یہ حاتم وہ ہے جومشہور سخی گزراہے۔آپ اپنے والدحاتم ابن عبد ابن سعدکی وفات کے بعدشعبان ۷ھ میں ایمان لائے، بعد میں کوفہ میں رہے۔ حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔جَمل کے دن آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی تھی۔ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔۶۷ھ میں وفات پائی، مقام فرقلیہ میں قبر ہے۔ (عنقریب اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم میں سے ہرایک سے بلا ترجمان کلام فرمائے گا۔) یعنی تم لوگ قیامت میں براہ ِراست بِلاواسطہ اپنے ربّ سے کلام کروگے۔یہ کلام عربی زبان میں ہوگا۔قیامت کا سارا کاروبار بلکہ آج نامۂ اعمال کی تحریر، قبرمیں منکرنکیرکےسوالات سب عربی زبان میں ہیں ۔مرتے ہی انسان کی زبان عربی ہوجاتی ہے۔ربّ تعالٰی کے ہاں سرکاری زبان عربی ہے۔اس لیے فرمایا کہ لوگ اپنی دنیاوی بولیاں نہ بولیں گے تاکہ ربّ کا عربی کلام انہیں سمجھانے کے لیے کوئی ترجمہ کرنے والا درمیان میں ہو۔خیال رہے کہ حضورانور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم خودتو عربی بولتے تھے مگر ساری زبانیں سمجھتے تھے حتی کہ جانوروں کی بولیاں بھی سمجھ لیتے تھے اس لیے اونٹوں چڑیوں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے آستانہ پر فریاد کی اورداد پائی۔اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ نے کیا خوب فرمایا:شعر
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہَرْنی داد
اِسی دَر پر شُتَرانِ ناشاد گِلۂ رَنج وعَنا کرتے ہیں
(کَلِمَۂ طَیِّبَہ) یہاں کلمۂ طیبہ سے مرادیا تو کلمۂ شہادت ہے یا اللہ کا ہر ذکر ہے یا فقیر سے اچھی بات کہہ دینا، معذرت کردینا، آئندہ کے لیے وعدہ کرلینا کہ ابھی کچھ نہیں جب کچھ ہوگا تب اِنْ شَآءَ اللہتم کو دیں گے۔ اسی کو قرانِ مجید نے قول معروف فرمایا ہے۔ ‘‘ ([3])
اچھی بات سے متعلق4 فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ اچھی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھو اس طرح تم شیطان پرغالب آجاؤگے۔ ‘‘ ([4]) (2) ’’ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ اورقیامت کےدن پرایمان رکھتاہواسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھرخاموش رہے۔ ‘‘ ([5]) (3) ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندےپررحم فرماتا ہے جس نےاچھی بات کہی اوربھلائی کوپالیایاپھر بری بات کہنےسے خاموش رہا اورسلامتی کو پالیا۔ ‘‘ ([6]) (4) ’’ آدمی سے اکثرخطائیں اس کی زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ([7])
[1] دلیل الفالحین، باب بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱ / ۳۸۰۔ ۳۸۱، تحت الحدیث: ۱۳۹ ملتقطا۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفضائل، باب علامۃ النبوۃ،۱۰ / ۱۳۴، تحت الحدیث: ۵۷۵۸۔
[3] مرآۃالمناجیح،۸ / ۱۱۸،۱۲۰ملتقطا۔
[4] الترغیب والترھیب ،کتاب الادب وغیرہ، باب الترغیب فی الصمت۔۔۔الخ، ۳ / ۳۴۱، حدیث: ۲۹۔
[5] مسلم ، کتاب الایمان ،باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔الخ ، ص۴۴، حدیث: ۴۸۔
[6] کشف الخفاء ،۱ / ۳۷۷،حدیث: ۱۳۷۲۔
[7] شعب الایمان ،باب فی حافظ اللسان ، فصل فی فضل السکوت عمالایعنیہ، ۴ / ۲۴۰،حدیث: ۴۹۳۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع