30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(14) مسلمان کی پردہ پوشی کرنا (15) اپنےمسلمان بھائی کے لیےمجلس میں کشادگی کرنا (16) کسی مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا (17) مظلوم کی مدد کرنا (18) تعلق توڑنے والے رشتہ دارسےتعلق جوڑنا (19) ظالم کوظلم سےروکنا (20) کسی کو بھلائی کی راہ بتانا (21) نیکی کی دعوت دینا (22) لوگوں کے درمیان صلح کروانا (23) مسکین سےاچھےطریقے سےبات کرنا (24) پانی کی بالٹی کسی دوسرے مسلمان کودے دینا (25) پڑوسی کو تحفہ دینا (26) کسی مسلمان کی (جائز) سفارش کرنا (27) اُس عزَّت دار پر رحم کرناجو رُسوا ہو گیا ہو (28) اُس غنی پر رحم کرنا جو مُفلس ہو گیا ہو (29) اُس عالِم پررحم کرنا جوجاہلوں کے درمیان گھِر گیا ہو (30) مریض کی عیادت کرنا (31) جو کسی مسلمان کی غیبت کرے اسے روکنا (32) مسلمان سے مصافحہ کرنا (33) رضائے الٰہی کے لیے آپس میں محبت کرنا (34) رضائے الٰہی کے لیے آپس میں مل بیٹھنا (35) رضائے الٰہی کے لیے آپس میں ملاقات کرنا (36) رضائے الٰہی کے لیے لین دین کرنا (37) کسی مسلمان کو اس کی سواری پر سوار کرا دینا (38) یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوا دینا (39) مسلمانوں کو نصیحت کرنا ۔ ‘‘ ([1])
مدنی گلدستہ
’’ جنت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) کسی مسلمان کو عاریتًا کوئی چیز دینا بھی کارِ ثواب ہے۔
(2) وحشت زدہ کی وحشت دُور کرناجنت میں داخلے کا سبب ہے۔
(3) مسلمانوں کی آپس کی محبت، میل جول، لین دین اوردیگر معاملات اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے ہوں تو دنیا وآخرت کی بھلائیوں کا باعث ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیر وبھلائی کے کاموں کو کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:139
عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِم ٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَقُوْلُ:اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ. ([2]) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَاعَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّاسَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ، فَیَنْظُرُ اَ یْمَنَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَا قَدَّمَ، وَ یَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَاقَدَّمَ، وَیَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلَا یَرَ ی اِلّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْہِہِ، فَاتَّقُواالنَّارَوَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ. ([3])
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا عَدِی بن حاتِم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ہو۔ ‘‘ صحیحین کی ایک روایت میں انہیں سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ عنقریب اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم میں سے ہرایک سے بغیرترجمان کلام فرمائے گا۔آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اَعمال نظر آئیں گے۔بائیں طرف دیکھے گاتوبھی اَعمال نظر آئیں گے۔ اپنے سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی۔ پس جہنم سے بچو!اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور جسے یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی گفتگو کے ذریعے ( جہنم سے بچے ) ۔‘‘
اعمالِ صالحہ کے ذریعے جہنم سے چھٹکارا :
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ اَعمالِ صالحہ اورصدقات کے ذریعے اپنے آپ کو عذاب سے بچاؤ۔ صدقہ کرو اگرچہ آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو۔آخرت میں اللہ عَزَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع