دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

ہاں ،  یارسولَ اللہ! (صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) ہمارایہی ارادہ  ہے۔فرمایا:اے بنی سلمہ!دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ اٰثَارُکُم،  تین باریہ فرمایا۔ یعنی اپنےگھروں ہی میں رہوتمہارے  قدموں کاثواب لکھا جائے گا۔اس پر وہ لوگ اپنے گھر میں ٹھہرگئے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ دُور سے چل کر مسجد میں آکر نماز پڑھنے میں ہرقدم پر ثواب ملتا ہےاوریہ کہ مسجد کے قریب مکان بنانا اچھا ہے کیونکہ سید عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بنو سلمہ کو منع نہیں فرمایا تھاصرف زیادہ ثواب کی ترغیب دلائی تھی اوریہ پسند نہ فرمایا کہ مدینہ منورہ کا ایک حصہ خالی ہوجائے۔ ‘‘  ([1])  

گھر  مسجدسے دور :

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’  (حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔یعنی) تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے ‏لیے۔ کیونکہ مسجد کی طرف ہرقدم عبادت ہےیاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اور علماء کی تصانیف میں لکھا جائے گا۔ واعظین اس پر وعظ کریں گے جو تمہارے واقعے سن کر دُور سے مسجدمیں آیا کریں گے،  ان سب کا ثواب تمہیں ملا کرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجدسے دُور ہونا متقی کے‏لیے باعثِ ثواب ہے کہ وہ دُور سے جماعت کےلیے آئے گا۔ مگر غافلوں کے ‏لیے ثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے۔ لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ منحوس وہ گھر ہےجس میں اذان کی آواز نہ آئے یعنی غافلوں کے لیے دُوریٔ گھرنحوست ہے۔ ‘‘  ([2])  

مدنی گلدستہ

 ’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1)  دُورکی   مسجد میں جانے سے اگرقریبی  مسجدخالی ہوتی ہوتوقریبی مسجد کو آباد کرناضروری ہے۔

(2)  اسلامی سرحدوں کی حفاظت کےلیےمسلمانوں کوسرحد کےقریب  اپنے مکانات بنانے چاہییں تاکہ کفارکی نقل وحرکت پرنظررکھی جاسکے۔

(3)  رات کےاندھیرے، سخت سردی اورشدیدبارش کے  وقت بھی مسجدمیں آکرنمازپڑھنا نیک لوگوں  کا طریقہ ہے۔

(4)   بزرگوں کے نیک اَعمال کتابوں  میں اس نیت سےلکھناتاکہ بعدمیں آنےوالےاُس  پرعمل کریں کارِ ثواب ہے۔

(5)  نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کےلیےاپنامحلہ چھوڑنا  باعث سعادت ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مساجد کو عبادات کے ذریعے آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔                 آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر:137                                                                                                                                                                   

نیکیوں کاحریص

عَنْ اَبیْ الْمُنْذِرِ اُبَیِّ  بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  قَالَ: کَانَ رَجُلٌ لَا اَعْلَمُ رَجُلًا اَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ،  وَکَانَ لَا تُخْطِئُہُ صَلَاۃٌ فَقِیْلَ لَہُ، اَ وْ فَقُلْتُ لَہُ: لَوْ اِشْتَرَ یْتَ  حِمَارًا تَرْکَبُہُ  فِی الظَّلْمَاءِ؟  وَفِی الرَّمْضَاءِ؟  فَقَالَ: مَا یَسُرُّ نِی اَنَّ مَنْزِلِیْ اِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ،  اِنِّیْ اُرِیْدُ  اَنْ یُکْتَبَ  لِیْ مَمْشَایَ  اِلَی الْمَسْجِدِ،  وَرُجُوعِی  اِذَا رَجَعْتُ اِلٰی اَہْلِیْ،  فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ اللّٰہُ  لَکَ ذَلِکَ  کُلَّہُ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ لَکَ مَااِحْتَسَبْتَ. ([3])    

 (قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی)  اَلرَّمْضَاءُ:اَلْاَرْضُ الَّتِی اَصَابَہَا الْحَرُّ الشَّدِیْدُ.

 



[1]   تفہیم البخاری ۱‏ / ۱۰۰۵۔

[2]   مرآۃالمناجیح،۱‏ / ۴۳۴۔

[3]   مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب فضل کثرۃ الخطا الی المساجد،ص۳۳۴، حدیث: ۶۶۳بتغیر۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن