30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں ، یارسولَ اللہ! (صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) ہمارایہی ارادہ ہے۔فرمایا:اے بنی سلمہ!دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ اٰثَارُکُم، تین باریہ فرمایا۔ یعنی اپنےگھروں ہی میں رہوتمہارے قدموں کاثواب لکھا جائے گا۔اس پر وہ لوگ اپنے گھر میں ٹھہرگئے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ دُور سے چل کر مسجد میں آکر نماز پڑھنے میں ہرقدم پر ثواب ملتا ہےاوریہ کہ مسجد کے قریب مکان بنانا اچھا ہے کیونکہ سید عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بنو سلمہ کو منع نہیں فرمایا تھاصرف زیادہ ثواب کی ترغیب دلائی تھی اوریہ پسند نہ فرمایا کہ مدینہ منورہ کا ایک حصہ خالی ہوجائے۔ ‘‘ ([1])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔یعنی) تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے لیے۔ کیونکہ مسجد کی طرف ہرقدم عبادت ہےیاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اور علماء کی تصانیف میں لکھا جائے گا۔ واعظین اس پر وعظ کریں گے جو تمہارے واقعے سن کر دُور سے مسجدمیں آیا کریں گے، ان سب کا ثواب تمہیں ملا کرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجدسے دُور ہونا متقی کےلیے باعثِ ثواب ہے کہ وہ دُور سے جماعت کےلیے آئے گا۔ مگر غافلوں کے لیے ثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے۔ لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ منحوس وہ گھر ہےجس میں اذان کی آواز نہ آئے یعنی غافلوں کے لیے دُوریٔ گھرنحوست ہے۔ ‘‘ ([2])
مدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) دُورکی مسجد میں جانے سے اگرقریبی مسجدخالی ہوتی ہوتوقریبی مسجد کو آباد کرناضروری ہے۔
(2) اسلامی سرحدوں کی حفاظت کےلیےمسلمانوں کوسرحد کےقریب اپنے مکانات بنانے چاہییں تاکہ کفارکی نقل وحرکت پرنظررکھی جاسکے۔
(3) رات کےاندھیرے، سخت سردی اورشدیدبارش کے وقت بھی مسجدمیں آکرنمازپڑھنا نیک لوگوں کا طریقہ ہے۔
(4) بزرگوں کے نیک اَعمال کتابوں میں اس نیت سےلکھناتاکہ بعدمیں آنےوالےاُس پرعمل کریں کارِ ثواب ہے۔
(5) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کےلیےاپنامحلہ چھوڑنا باعث سعادت ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مساجد کو عبادات کے ذریعے آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:137
عَنْ اَبیْ الْمُنْذِرِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ لَا اَعْلَمُ رَجُلًا اَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ، وَکَانَ لَا تُخْطِئُہُ صَلَاۃٌ فَقِیْلَ لَہُ، اَ وْ فَقُلْتُ لَہُ: لَوْ اِشْتَرَ یْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہُ فِی الظَّلْمَاءِ؟ وَفِی الرَّمْضَاءِ؟ فَقَالَ: مَا یَسُرُّ نِی اَنَّ مَنْزِلِیْ اِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ، اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ یُکْتَبَ لِیْ مَمْشَایَ اِلَی الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِی اِذَا رَجَعْتُ اِلٰی اَہْلِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ اللّٰہُ لَکَ ذَلِکَ کُلَّہُ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ لَکَ مَااِحْتَسَبْتَ. ([3])
(قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) اَلرَّمْضَاءُ:اَلْاَرْضُ الَّتِی اَصَابَہَا الْحَرُّ الشَّدِیْدُ.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع