30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی: ’’ جی ہاں ! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ بنوسلمہ! تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ بنوسلمہ تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ ہرقدم پرایک نیکی ہے۔ ‘‘ امام مسلم نے اسے روایت کیاہےاورامام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نےبھی اسی مفہوم کوحضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت کیا ہے۔
جتنی مشقت زیادہ اتنا ہی ثواب زیادہ:
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ مسجد تک جانے میں قدموں کی کثرت ثواب کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔حضرت سَیِّدُنَاابوعبداللہ بن لُبابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےپوچھا گیا کہ ’’ ایک شخص اپنی مسجد چھوڑ کربڑی جماعت پانے کے لیے جامع مسجد جاتاہے تواس کا یہ عمل کیسا؟ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ اپنی مسجد کو نہ چھوڑے کیونکہ جامع مسجدمیں نماز پڑھنے کی فضیلت صرف جمعہ کےلیے ہے۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نئی مساجد چھوڑ کر پرانی مساجد کی طرف جاتے تھے۔سَیِّدُنَا امام حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس بات کو ناپسند فرماتے کہ کوئی اپنی قریبی مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں جائے۔امام قُرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا بھی یہی موقف ہے۔
جس کا گھر مسجد کے قریب ہواوروہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے مسجدجائے حتی کہ اس کے قدم اس شخص کے قدموں کے برابر ہوجائیں جس کا گھرمسجدسے دور ہے۔تو کیا یہ دونوں فضیلت میں برابر ہوں گے؟ امام طَبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ دونوں فضیلت میں برابر ہیں ۔ ‘‘ اورحضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ’’ میں حضرت سَیِّدُنَا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ مسجد گیا توانہوں نے چھوٹے چھوٹے قدم رکھے اورفرمایا :میں چاہتا ہوں کہ ہمارے قدم مسجد کی طرف زیادہ ہوں ۔ ‘‘
علامہ بدرُالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغنیفرماتے ہیں : ’’ میں کہتا ہوں ، اگرچہ یہ حدیث زیادہ قدموں کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے لیکن اس سےفضیلت میں برابری لازم نہیں آتی کیونکہ آسانی سے اُٹھائے جانے والے قدموں کا ثواب ، مشقت سے اُٹھائے جانے والے قدموں کے ثوا ب کے برابر نہیں ہو سکتا ۔اپنی قریبی مسجد کو آباد رکھنا زیادہ اَولیٰ ہےاور جب قریبی مسجد کا امام بدعتی ہو، قرا ءت میں غلطی کرتا ہویاقوم اسے ناپسند کرتی ہوتو قریبی مسجد کو چھوڑ کردُوروالی میں جانا چاہیے ۔ حدیث مذکور میں یہ بھی بیان ہوا کہ جب اَعمال میں اِخلاص ہوتواُس کے اَثرات نیکیوں کے طورپر لکھے جاتے ہیں ۔ جوکثرتِ ثواب کا اِرادا رکھتاہوتواس کےلیے مسجد سے دُور سکونت اختیارکرنا بہتر ہے۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ بنو سَلِمہ انصار کا ایک قبیلہ تھا۔ان کے گھر مسجد سےدورتھے۔یہ رات کے اندھیرے میں ، بارش کے وقت اور سخت سردی میں بھی باجماعت نماز کی کوشش فرماتے۔انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہوجانے کا ارادہ کیا تو سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اس بات کو ناپسند فرمایاتاکہ مدینہ کےاردگرد کی جگہ خالی نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک ہرقدم پر جو اجر ہے اس کی آپ نے انہیں رَغبت دلائی، یعنی قدموں کی کثرت ثواب میں زیادتی کا سبب ہے۔یا یہ مراد ہےکہ تمہاراعبادت میں کوشش کرنا کتابوں میں لکھا جائے گا اور لوگوں کے لیےباعثِ ترغیب وتحریص ہوگا۔ ‘‘ ([2])
تفہیم البخاری میں ہے: ’’ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو خبر ملی کہ مسجد نبوی کے ارد گرد جگہ خالی ہوگئی ہےاور بنوسلمہ اپنے مکان چھوڑکر مسجد کے قریب منتقل ہوناچاہتے ہیں توآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا :مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا:جی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع