30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور انہیں انسانوں یاجانوروں نے کھالیاتو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہیں ۔ ‘‘ ([1])
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ (انسان، جانوریا کوئی اورچیز کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے) عرب میں دستور تھا کہ باغ والے مسافروں کو دو ایک پھل توڑ لینے سے منع نہ کرتے جیسے ہمارے ہاں بھی چنے کا سا گ کا ٹنے سے لوگ منع نہیں کرتے۔مسافر بھی اس دستور سے واقف تھے، وہ بھی چوری کی نیت سے نہیں بلکہ عُرفی اِجازت کی بنا پر دو چار دانے منہ میں ڈال لیتے تھے۔نیز کبھی جانور کھیت پر سے گزرتے ہوئے سبزے میں ایک آدھ منہ ماردیتے ہیں ۔سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اِن سب کو مالک کے لیے صدقہ قرار دیا۔کبھی بغیر نیت بھی ثواب مل جاتا ہے۔ (اور جو پھل چوری ہوجائیں تو وہ مالک کے لیے صدقہ ہیں ) صبرکرنے اوراس نقصان کو برداشت کرنے پر ضرور ثواب ملے گا، جیسےکانٹالگ جانے پرثواب ملتاہے۔ ‘‘ ([2])
مدنی گلدستہ
’’ یااللہ ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) دستکارکی روزی حلال ہونے کے اعتبارسےزیادہ پاکیزہ ہے۔
(2) فی زمانہ کسبِ حلال کی تمام جائزاَنواع کی بڑی فضیلت ہےکیونکہ اس دورمیں لوگوں کوہر شےکی حاجت پڑتی ہے۔
(3) آخرت کے اجروثواب کادارومدارایمان پرہے اورکافرایمان سے خالی ہے۔لہٰذاآخرت میں کافر کےلیے کوئی اجرنہیں ۔
(4) ایساعمل کرنابھی کارِ ثواب ہے جس کافائدہ بعدمیں آنےوالےلوگوں کوہو ۔
(5) اگرکسی شخص کا مال چوری ہوجائےاوروہ اس پر صبر کرےتواس کو صدقہ کا ثواب ملےگا۔
(6) شرعی اَحکام میں عرف کابھی اعتبارکیاجاتاہےلہٰذاعرف کے احکام سے بھی واقفیت ہونی چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں رزقِ حلال کمانے کی توفیق عطافرمائے اور دوسروں کی محتاجی سے ہم سب کومحفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:136
مسجد کی طرف اُٹھنے والے ہرقدم پرنیکی
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:اَرَادَ بَنُوْ سَلِمَۃَ اَنْ یَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُمْ: اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ فَقَالُوْا:نَعَمْ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْاَرَدْنَاذَلِکَ.فَقَالَ:بَنِی سَلِمَۃَ!دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ، دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ بِکُلّ خَطْوَۃٍ دَرَجَۃً. ([3]) رَوَاہُ مُسْلِمٌ. وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ اَیْضًا بِمَعْنَاہُ مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ قبیلہ بَنُوسَلِمَہ نے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کاارادہ کیا۔رسولِ اکرم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ خبر پہنچی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجدکےقریب منتقل ہونےکاارادہ رکھتے ہو؟ ‘‘ عرض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع