30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونے کی وجہ سے لوگوں کواَشیاء کی زیادہ محتاجی ہوتو تجارت افضل، جب صنعت کی زیادہ محتاجی ہو تو صنعت افضل ہے۔نیزنیکی کرنے پر آخرت میں ثواب مسلمانوں ہی کو ملے گا کفارکو نہیں کیونکہ قربِ الٰہی صرف مسلمانوں ہی کوحاصل ہوگا۔ کافراگر صدقہ کرے یاراہ گیروں کےلیے مسافرخانہ بنوائےیا کوئی نیکی کا کام کرے تو آخرت میں اس کے لیے کچھ ثواب نہیں ۔جیساکہ منقول ہے: ’’ (کافر کوئی اچھا کام کرتا ہے) تو اس کے بدلے اسے دنیاہی میں رزق دے دیا جاتاہے اور اس کی دُنیوی تکالیف دُور کر دی جاتی ہیں ، آخرت میں اُس کے لیے کچھ اَجر نہیں ۔نیز حدیث مذکور سب مسلمانوں کو شامل ہے چاہےوہ آزاد ہوں یاغلام، فرمانبردارہوں یاگناہ گار، الغرض جو بھی مسلمان اِس حدیث پرعمل کرے گا فضیلت پائے گا ۔ ‘‘ ([1])
شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رَضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ افضلیت لوگوں کے حال کے اِعتبار سے ہے، جہاں لوگ خوراک کے زیادہ محتاج ہوں وہاں زَراعت اَفضل ہے تاکہ لوگ قحط زدہ نہ ہوں اور جہاں کاروبار کی زیادہ ضرورت ہو وہاں تجارت افضل ہے اور جہاں دستکاری کی احتیاجی زیادہ ہو وہاں صنعت کاری افضل ہے، اس زمانہ میں حالات کا مقتضیٰ یہ ہے کہ سب افضل ہیں ۔ ‘‘ ([2])
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُایک مرتبہ اَخروٹ کا درخت لگا رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا : ’’ آپ تو بزرگی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں ، آپ کا وصال بہت قریب ہے ، اس درخت کے پھل آپ نہیں بلکہ دوسرے کھائیں گے۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ پھل اور لوگ کھائیں گے اَجر مجھے ملے گا۔ ‘‘ ([3])
منقول ہے کہ ایک بوڑھا شخص زیتون کا درخت لگا رہا تھا۔ بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا تو کہا : ’’ زیتون کا پھل تو دیرسےآتا ہے اورتم بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکے ہو؟ ‘‘ بوڑھے نے کہا: ’’ ہم سے پہلےلوگوں نے درخت لگائے اورہم نےان کے پھل کھائےاوراب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہمارے بعد والے کھائیں ۔ ‘‘ بادشاہ نےکہا: ’’ تم نے کتنی اچھی بات کہی ہے تمہیں چارہزاردرہم انعام دیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ بوڑھے شخص نے کہا: ’’ اے بادشاہ! میرے درخت لگانے اور اس کے دیر سے پھل آنے کی وجہ سےآپ کوتعجب ہوا حالانکہ مجھے اس درخت کا بدلہ ( چار ہزاردرہم کی صورت میں ) بہت جلد مل گیا۔ ‘‘ بادشاہ نے پھراسے چارہزار درہم دے دئیے۔ بوڑھےنے کہا: ’’ اے بادشاہ!ہردرخت سال میں ایک مرتبہ پھل دیتاہے، میرے درخت نے تھوڑی ہی دیر میں دو مرتبہ پھل دے دیا۔ ‘‘ بادشاہ نے اسے مزید چار ہزار درہم دئیے اوریہ کہتے ہوئے چل دیاکہ اگر ہم یہاں کچھ دیر اور ٹھہر گئے تو ہماراخزانہ خالی ہوجائےگا ۔ ([4])
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ حضرت سَیِّدُنَاعلامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس پر اپنے کرم کی وُسْعَت فرماتاہے اسے موت کے بعدبھی اُسی طرح ثواب عطافرماتا ہے جس طرح اس کی زندگی میں عطافرماتاہے۔اورچھ چیزوں کاثواب قیامت تک ملتا رہے گا: (1) صدقۂ جاریہ (2) ایساعلم جس سے نفع اُٹھایا جائے۔ (3) نیک اولادجواس کےلیےدعاکرتی رہے۔ (4) درخت لگانا (5) کاشتکاری (6) سرحد کی حفاظت کرنا۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور کی فضیلت صرف درخت لگانے یا کاشت کاری کرنے والے کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ اس شخص کوبھی شامل ہے جو اُجرت دے کر درخت لگوائے یاکاشت کاری کروائے، یہاں تک کہ گندم کی جن بالیوں کووہ جمع کرنے سے عاجز آگیاجو گندم کاٹتے وقت گرگئیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع