30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منداور مظلوم کی مددکرے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ اگر وہ یہ کام نہ کرے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ بھلائی کاحکم دے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ اگریہ بھی نہ کرے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تو پھر شرپھیلانے سے رُکا رہے، اُس کے لیے وہی صدقہ ہے۔ ‘‘ ([1])
مدنی گلدستہ
مولا ’’ علی ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) نیکی کرنے والوں کے لیے نیکیوں کےبے شمار مواقع ہیں حتی کہ بسا اوقات چھوٹے چھوٹے عمل بھی بڑی بڑی نیکیوں کا سبب بن جاتے ہیں ۔
(2) معمولی نیکی بھی اگر اخلاص کےساتھ کی جائے تو صدقے کا ثواب ملتاہے۔
(3) بروز ِقیامت صرف عرشِ الٰہی کا سایہ ہوگااور صدقہ کرنے والے اس سائے کے نیچے ہوں گے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیک اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:135
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْ مُسْلِمٍ یَغْرِسُ غَرْسًااِلَّا کَانَ مَا اُکِلَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃً، وَمَاسُرِقَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃٌ، وَلَا یَرْزَءُہُ اَحَدٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃٌ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:فَلَا یَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَاطَیْرٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ: لَا یَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا یَزْرَعُ زَرْ عًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَا شَیْء ٌ اِلّا کَانَتْ لَہُ صَدَقَۃً. وَرَوَیَاہُ جَمِیْعًا مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ جوبھی مسلمان کوئی درخت لگائےتواس سے جو کھایا جائے وہ اس کےلیےصدقہ ہے اور جوچوری ہوجائے وہ بھی اس کےلیےصدقہ ہے بلکہ اگر کوئی اس میں نقصان کرے توبھی اس کے لیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ’’ مسلمان جودرخت لگائے پھر اس سے انسان، چوپائے اور پرندے کھائیں تووہ قیامت تک اس کےلیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے: ’’ کوئی مسلمان درخت لگاتاہےاورکاشت کاری کرتاہےتو اس سے انسان، چوپائےیا کوئی اورچیز کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ ‘‘ امام بخاری ومسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا دونوں ہی نے اسےحضرتِ سَیِّدُناانس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔
عَلَّامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں درخت لگانے اور کاشت کاری کی فضیلت کابیان ہے۔بعض نے اِس سے استدلال کیاہے کہ کاشت کاری روزی کمانے کاافضل ذریعہ ہے۔علمائے کرام کااِس میں اختلاف ہے کہ کمائی کا کونساذریعہ افضل ہے۔امام نوویرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ کاشت کاری افضل ہے۔بعض نے کہاکہ ہاتھ کے ہنرسے روزی کمانا افضل ہے۔اورایک قول یہ ہے کہ تجار ت افضل ہے۔اوراکثر احادیث ہاتھ سے کمانے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ۔جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابوبَردہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سوال کیا گیا کہ کونسی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ فرمایا:آدمی کا اپنے ہاتھ سے کا م کرنااور ہرجائزبیع۔اور اس افضلیت کی وجہ یہ ہےکہ حلال ہونے کے اعتبار سےیہ زیادہ پاکیزہ ہے اورفائدہ عام ہونے کے اعتبار سے زیادہ افضل کیونکہ اس کا فائدہ دوسروں کوبھی پہنچتا ہے۔لیکن درست یہ ہےکہ لوگوں کی حاجات مختلف ہونے کے اعتبار سے سب کے اَحکام مختلف ہیں ۔ مثلاًجب لوگوں کو غذا کی زیادہ محتاجی ہوتواس وقت زراعت افضل ہے تاکہ لوگوں پروُسعت ہوجائے۔اورجب تجارتی راستے منقطع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع