30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعتراض نہیں کہ پھرچاہیے کہ نیک لوگ نمازیں نہ پڑھیں کیونکہ نمازیں گناہوں کی معافی کےلیے ہیں وہ پہلے ہی سے بے گناہ ہیں ۔ ‘‘ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ توبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کبیرہ گناہ توبہ سےیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےفضل سےمعاف ہوتے ہیں ۔
(2) اَعمالِ صالحہ کی برکت سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔
(3) گناہوں سے اجتناب کرتے ہوئے نیک اَعمال بجالانا بلندئ درجات کا سبب ہے۔
(4) نیکیوں کی برکت سےگناہوں کے معاف ہونےکاتعلق اِیمان پرخاتمے کے ساتھ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:131
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یَمْحُواللّٰہُ بِہ ِالْخَطَایَا وَیَرْفَعُ بِہِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوْا:بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!قَالَ:اِسْبَاغُ الْوُضُوْ ءِعَلَی الْمَکَارِہِ، وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ، وَاِنْتِظَارُالصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، فَذَ الِکُمُ الرِّبَاطُ. ([2])
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ کیامیں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ خطاؤں کومٹاتا اور درجات بلند فرماتا ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’ جی ہاں ! کیوں نہیں یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ مَشقّت کے وقت کامل وضو کرنا، مساجد کی طرف قدموں کی کثرت کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نمازکا انتظار کرنااور تمہارے لیے یہی رِباط ہے۔ ‘‘
نامۂ اَعمال سے خطاؤں کا مٹنا:
حضرتِ سَیِّدُناقاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’ گناہوں کا مٹنامغفرت سے کِنَایہ ہے اوریہ بھی احتمال ہےکہ اس سے مراد نامۂ اَعمال سے خطاؤں کا مٹانا ہو۔ ‘‘ ([3])
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ خطاؤں سےمرادگناہ صغیرہ ہیں ، نہ (کہ) کبیرہ، نہ (ہی) حقوق العباد، مَحْوسے مراد ہےبخش دینایانامۂ اعمال سے ایسا مِٹادینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔درجوں سے مراد جنت کے درجے ہیں یادنیا میں ایمان کے درجے۔ (مَشَقَّت کے وقت کامل وضو کرنا ) اس سے مراد سردی یا بیماری یا پانی کی گِرانی کا زمانہ ہے یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا۔ (مساجد کی طرف قدموں کی کثرت) اس لیےکہ گھرمسجدسےدورہویاقدم قریب قریب ڈالے۔مطلب یہ ہے کہ ہروقت نماز مسجدمیں پڑھنا، نمازکہ علاوہ وعظ وغیرہ کے لیے بھی مسجد میں حاضری دینا مُوجِب ثواب ہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ خواہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع