30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفسیر روح البیان میں ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو مِنْجَنِیْق میں رکھ کر آتش نمرودمیں ڈالا جانے لگا تو آپ کے پاس ’’ ہوا ‘‘ کے فرشتے نے حاضر ہو کر عرض کی : ’’ اگر آپ چاہیں تومیں آگ کو ہوا میں اُڑا دوں ۔ ‘‘ پھر پانی کے فرشتے نے عرض کی: ’’ اگر آپ چاہیں تو میں یہ آگ بجھا دوں ۔ ‘‘ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ’’ مجھے تمہاری اِس خدمت کی ضرورت نہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارسازہے۔ ‘‘ فرشتے بڑھے اور انہوں نے اُس مِنْجَنِیْق کو پکڑ لیا (جس پر ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو مقید کیا گیا) تھا ۔ چنانچہ کفار مِنْجَنِیْق کو نہ اٹھا سکے ۔ ابلیس لعین نے اُن سے کہا: ’’ اگر اِسے اٹھانا چاہتے ہو تو ننگے سروں والی دس عورتیں مِنْجَنِیْق کے قریب لے آؤ ۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو فرشتے وہاں سے چلے گئے۔پھرجب سَیِّدُنَاابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے کہا:”لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمُلْکُ لَاشَرِیْکَ لَکَ“ (یعنی اے ربُّ العالمین تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے، تمام تعریفیں تیری ہی لیے ہیں ، اور تیرے ہی لیے بادشاہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ۔) اتنے میں جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے حاضر ہوکر عرض کی: ’’ کوئی حاجت ہو تو حکم فرمائیے۔ ‘‘ سَیِّدُنَا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ’’ مجھے تم سے کوئی حاجت نہیں ۔ ‘‘ جبریل امین نے عرض کی: ’’ اچھا جس سے حاجت ہے اس سے تو عرض کیجئے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ میری حاجت کو خوب جانتا ہے۔ ‘‘ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آگ کو حکم فرمایا:
قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ (۶۹) (پ۱۷، الانبیاء: ۶۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے آگ ہوجا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر۔
پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم ملتے ہی آگ کی جلانے کی تاثیر اور گرمی بالکل ختم ہوگئی ، وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی اور اس میں صرف روشنی اور چمک باقی رہ گئی۔ ‘‘ ([1])
صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یقین وتوکل:
مُفَسِّرِشہیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسے شاندار مؤمن ہیں اور ایسی آن والے متوکل ہیں کہ اُن سے کفار ِمکہ کے ایجنٹوں نے کہا: تم بدرِ صغریٰ میں بااِر ادۂ جہاد ہر گز نہ جاؤ کیونکہ اُنہوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بہت سازو سامان والے بے شمار لشکر جمع کررکھے ہیں ، تمہارا وہاں جانا گویا موت کے منہ میں جانا ہے ، اُن سے ڈرو اور خوف کرو، مفت کیوں جانیں گنواتے ہو؟ تو اِس کلام کو سن کر اُن مقبولوں کے دلوں میں بجائے خوف و ڈر پیدا ہونے کے اور زیادہ کمالِ ایمان پیدا ہوگیا، اُن کا ایمان و توکل بڑھ گیا، بے ساختہ بول اٹھے کہ کوئی مضائقہ نہیں ، ہمیں کفار کی یلغار سے کوئی ڈر نہیں ، اُن کے مقابلہ میں ہمیں اللہ کافی و افی ہے، ہمارا تو وہی کارساز ہے، جس کا کارساز ایسا شاندار ہو اُسے کیا پرواہ۔ چنانچہ وہ حضرات بے دھڑک روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچے تو میدان خالی پایا، مزے سے وہاں رہے، بدر صغریٰ کے پاس ہی میلے میں تجارتیں کیں ، خوب کمائی کی اور لوٹے تو اِس طرح کہ اللہ تعالٰیکی نعمت یعنی تجارتی نفع اور اللہ تعالٰیکے فضل یعنی اُخروی ثواب سے اُن کے دامن بھرے ہوئے تھے۔ اُنہیں اِس سارے سفر میں تکلیف پہنچنا تو کیا معنیٰ کسی معمولی خراش نے چھوا بھی نہیں اور مزید مہربانی یہ ہوئی کہ یہ حضرات اِس سفر کے سارے حالات میں رضائے الٰہی کے تابع رہے کہ اُن کے ہر حال ، ہر جنبش سے ربّ تعالٰی راضی ہوا، اللہ تعالٰیبڑے ہی فضل و کرم والا ہے، اے جماعت صحابہ کی مقبول جماعت! یہ شیطان ہے جو تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، یا مدینہ منورہ میں جو شیطان کے دوست یعنی منافقین ہیں اُنہیں ڈراتا ہے، تم اُ ن سے کیوں ڈرو؟ خیال رکھنا کہ اِن شیاطین اور اِن کے دوستوں سے کبھی نہ ڈرنا، ہمیشہ مجھ سے ہی ڈرنا، اگر تم سچے مسلمان ہو تو اِس نصیحت پر کار بند رہنا، ایمان کا تقاضا ہے کہ مؤمن کے دل میں اللہ تعالٰیکا خوف ہو ، غیروں کا خوف نہ ہو۔ ‘‘ ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع