30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَالسَّلَام) کی مٹی اسی دن جمع ہوئی، نیز اس دن میں لوگ نمازِ جمعہ جمع ہوکر ادا کرتے ہیں اِن وجوہ سے اسے جُمُعہ کہتے ہیں۔اسلام سے پہلے اہل عرب اسےعَرُوْبَہکہتے تھے۔نماز جمعہ فرض ہے۔شعار اسلام میں سے ہے۔اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے مگر اس کی فرضیت کے لیے کچھ شرائط ہیں ۔چنانچہ یہ نماز مسلمان، مرد، عاقل، بالغ، آزاد، تندرست، شہری پر فرض ہے، اس کی ادا کے لیے جماعت، آزاد، جگہ، شہراور خطبہ شرط ہیں ۔ گاؤں والوں پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ ‘‘ ([1])
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ حدیثِ مذکورمیں اشارہ ہے کہ ( جمعہ ) کے دن غسل کرنا سنت ہے واجب نہیں اور وضو کرنے سے مراد سنن و مستحبات کا لحاظ رکھتے ہوئے کامل وضوکرنا ہے۔ ‘‘ ([2])
دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا:
شرح مسلم میں ہے: ’’ جس نے کسی کنکری کوچھوا تو اس نے لغو کام کیا ۔ ‘‘ اس فرمان عالی میں خطبہ سننے کی حالت میں کنکریاں اورہر بیکار و بے فائدہ چیز کو چھو نے سے منع کیاگیا ہےاور اس طرف اشارہ ہے کہ دل اور تمام اَعضاءکی توجہ خطبہ کی طرف ہونی چاہیے۔یہاں لغو سے مراد باطل مذموم اور مَردُود چیزیں ہیں۔‘‘([3])
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا لغو و باطل ہے کیونکہ ان کی وجہ سے بندہ خطبہ سننے سے غافل ہو جاتا ہے جیسا کہ گفتگو غفلت کا باعث بنتی ہے۔ کنکریاں چھو نے سےمراد ان سے کھیلنا یا بِلا ضرورت انہیں زمین پر ہموار کرناہے۔بعض نے کہا کہ اس سے مرادکنکریوں کو گھمانا اوربطور ِتسبیح استعمال کرنا ہے۔ ‘‘ ([4])
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ) دوسرے جمعہ سے مراد آئندہ جمعہ ہے یا گذشتہ ۔دوسرے معنیٰ زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابن خُزیمہ بلکہ ابو داؤد کی روایا ت میں ہے۔معلوم ہو اکہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ۔ ربّ تعالٰی فرماتا ہے: ( اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-) بعض علماءفرماتے ہیں کہ غسل جمعہ نماز کے لیے مسنون ہے نہ کہ دنِ جمعہ کے لیے۔ لہٰذاجس پر جمعہ کی نمازنہیں ان کے لیے غسل سنت نہیں ، ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔بعض فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل نمازِ جمعہ سے قریب کرو حتی کہ اس کے وضو سے جمعہ پڑھو۔مگر حق یہ ہے کہ غسلِ جمعہ کا وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔ (اور مزید تین دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ) یعنی دس دن کے گناہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔جتنا خشوع زیادہ، اتنا ثواب زیادہ یا اولًا آٹھ دن کی بخشش کا وعدہ تھا پھر دس دن کا وعدہ ہوا۔ ‘‘ ([5])
جمعہ کی فضیلت پر 8فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بڑا ہے۔ اوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک عیدالاضحیٰ وعیدالفطر سے بڑاہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں :*اللہ عَزَّوَجَلَّ نےاسی میں حضرت سَیِّدُنَاآدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پيدا کیا۔*اور اسی میں زمین پر انہيں اتارا۔*اور اسی میں انہيں وفات دی۔*اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے وہ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔ *اور اسی دن میں
[1] مرآۃالمناجیح،۲ / ۳۱۷ ملخصا۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب التنظیف والتکبیر،۳ / ۴۷۵، تحت الحدیث: ۱۳۸۳۔
[3] شرح مسلم للنووی،کتاب الجمعۃ، باب فضل من استمع و انصت للخطبۃ ،۳ / ۱۴۷، الجزء السادس۔
[4] اشعۃ اللمعات ، کتاب الصلاۃ ، باب التنظیف والتکبیر ، ۱ / ۶۲۰۔
[5] مرآۃالمناجیح،۲ / ۳۳۴ملخصا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع